لائن آف کنٹرول کے راستے تجارت’معطل‘

Image caption تجارتی لین دین کے لیے اوڑی، مظفرآباد اور چکانداباغ، راولاکوٹ مراکز بنائے گئے تھے

اکتوبر سنہ دو ہزار آٹھ میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک معاہدے کے تحت دونوں ملکوں کے زیرانتظام کشمیری خطوں کے مابین شروع کی گئی محدود تجارت ٹیکس نفاذ کے بعد معطل ہوگئی ہے۔

بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے تاجروں کا کہنا ہے ٹیکس کا نفاذ اس تجارت کی اصل روح کو مجروح کر رہا ہے اور اسی لیے انہوں نے احتجاجاً تجارتی سرگرمیاں روک دی ہیں۔

مقامی تجارتی انجمنوں کے اتحاد فیڈریشن چیمبر آف کامرس کشمیر کے جنرل سیکرٹری نذیر احمد شکاری کا کہنا ہے کہ مظفرآباد اور راولاکوٹ راستوں کو تجارت کے لیے کھولنے کا مقصد خالص تجارتی نہیں تھا۔

ان کے مطابق دونوں ملکوں نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ تجارت انسانی بنیادوں پر شروع کی جا رہی ہے تاکہ دو کشمیروں میں منقسم لوگوں کے درمیان تجارتی اور تمدنی رابطے بحال ہوجائیں۔ ان کے مطابق ان رابطوں سے ہند پاک تعلقات بہتر بنانے اور مسئلہ کشمیر پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں بھی مدد مل جاتی۔

سرینگر میں بی بی سی اردو کے نامہ نگار ریاض مسرور کے مطابق انہوں نے کہا کہ ’ہمیں تو کہا گیا تھا کہ اس راستے سے ہونے والی تجارت پر کوئی ٹیکس عائد نہیں ہوگا لیکن اب جبکہ تجارت کا حجم بڑھ رہا ہے حکومت نے ٹیکس عائد کر دیا‘۔

ماہرین کا بھی کہنا ہے’ کیش لیس‘ یا بغیر کرنسی کے ہونیوالی تجارت پر ٹیکس عائد کرنا بحث طلب ہے۔

شمالی کشمیر کے بارہمولہ ضلع کے معروف تاجر بشیر احمد کنرو کے مطابق’گوداموں میں مال خراب ہورہا ہے۔ پہلے ہی بہت پابندیاں تھیں۔ اشیا کی متفقہ فہرست میں اکیس آئٹم تھے جنہیں کم کر کے چودہ تک پہنچایا گیا ، لیکن اب لگتا ہے حکومت اس تجارت سے خوش نہیں‘۔

Image caption ’بارٹر سسٹم‘ کی طرز پر دونوں طرف کے تاجر اشیاء کا تبادلہ کرتے ہیں

یاد رہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی لین دین کے لیے وادی میں اُوڑی اور جموں میں چکاندا باغ کے مقامات کو رابطے کے لیے کھولا گیا تھا۔

اس تجارت میں سرمایہ کے لین دین کی اجازت نہیں بلکہ صدیوں پرانے ’بارٹر سسٹم‘ کی طرز پر دونوں طرف کے تاجر اشیاء کا تبادلہ کرتے ہیں۔ یہ تاجر ایک دوسرے کے ساتھ ٹیلی فونک رابطہ نہیں کرسکتے نہ ہی ایک دوسرے کے یہاں مارکیٹ سروے کے لیے آ جا سکتے ہیں۔

ہر ہفتے میں صرف دو روز کے لیے تجارت ہوتی ہے اور اس دوران سکیورٹی فورسز صبح دس بجے سے پہلے اور شام پانچ بجے کے بعد کسی لین دین کی اجازت نہیں دیتے۔

تاہم ان سبھی پابندیوں کے باوجود پچھلے ایک سو تیس روز میں اوڑی، مظفرآباد اور چکانداباغ، راولاکوٹ مراکز پر قریباً تین سو کروڑ روپے مالیت کی اشیا کا لین دین کیا گیا اور تاجروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس راستے سے تجارت کو سرکاری حدبندیوں سے آزاد کیا جائے تو کشمیر کے دونوں خطوں کے درمیان چار ہزار کروڑ کا کاروبار ہوسکتا ہے۔

تاجر برادری چاہتی ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کے اگلے مجوزہ دور میں ایل او سی تجارت کو ایجنڈے میں شامل کیا جائے لیکن ایف سی آئی کے رہنما نذیر احمد شکاری کہتے ہیں کہ ’ہمیں کوئی امید نہیں‘۔

ان کا کہنا ہے کہ ’چند ماہ قبل کشمیر کے دونوں منقسم خطوں کے تاجروں نے جب ایک مشترکہ چیمبر قائم کیا تو کچھ امید پیدا ہوگئی، لیکن جس انداز سے حکومت ہند اس تجارت کو درپیش مشکلات کو نظرانداز کر رہی ہے، لگتا ہے دونوں ملکوں کے درمیان ابھی اعتماد پیدا نہیں ہو پایا ہے‘۔

اسی بارے میں