سونیا گاندھی کا جانشین کون؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP

حال ہی میں جب یہ فیصلہ اچانک سنایا گیا کہ بھارت کی حکمران جماعت کانگریس کی صدر اور نہرو گاندھی خاندان کی رہنماء سونیا گاندھی سرجری کے لیے امریکہ روانہ ہو چکی ہیں تو سب کو ان کے غیرمعمولی اقتدار کا اندازہ تو ہوا ہی لیکن ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھا کہ سونیا گاندھی کا جان نشین کون ہوگا۔

سنہ دو ہزار چار میں کانگرس پارٹی کو مجموعی انتخابات میں فتح حاصل کرانے کے بعد جب سونیا گاندھی نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ خود وزیراعظم نہیں بنیں گی تو پارلیمان کے ارکان اشکبار ہوگئے تھے۔

لیکن پارلیمان کے ان ارکان کو پریشان نہیں ہونا چاہیے تھا کیونکہ سونیا اپنی پارٹی کے ارکان کو چھوڑ کر کہیں نہیں جا رہی تھیں۔

اب پھر کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے اور کانگرس پارٹی کے، اوپر سے لے کر نیچے تک، تمام ارکان اس بات پر پریشان ہیں کہ کیا سونیا گاندھی علاج کے بعد ان کی رہنمائی کریں گی یا نہیں؟ اور اگر ایسا نہیں ہو گا تو وہ اقتدار کسی اور کے حوالے کرنے کا کام کیسے سرانجام دیں گی؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مجموعی طور پر سونیا گاندھی کے پاس وزیراعظم سے زیادہ اختیار ہے

جب سونیا گاندھی نے یہ طے کیا تھا کہ وہ وزیراعظم نہیں بنیں گی تو انھوں نے وزیراعظم کا عہدہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کے حوالے کر کے ساتھ میں یہ بھی واضح کر دیا تھا کہ اقتدار کی اصل حق دار وہ خود ہی ہیں۔

منموہن سنگھ، ایک دیانت دار شخص اور ماہر اقتصاديات ہونے سے ضرور پہچانے جاتے ہیں لیکن جہاں تک سیاست کی بات ہے ان کا مکمل طور پر سونیا گاندھی پر ہی انحصار ہے۔ یعنی آئینی طور پر سونیا گاندھی کے پاس کوئی خاص اقتدار نہ بھی ہو لیکن مجموعی طور پر ان کے پاس وزیراعظم سے زیادہ اقتدار ہے۔

نقشِ پا

سونیا گاندھی کا اقتدار انھیں نہرو گاندھی خاندان کی سربراہ ہونے سے ملا ہے جو بھارتی سیاست پر جواہر لال نہرو کے دور سے حاوی ہے۔

اٹلی میں پیدا ہونے والی سونیا گاندھی اس خاندان کا حصہ اس وقت بنیں جب انھوں نے اندرا گاندھی کے سب سے بڑے بیٹے راجیو گاندھی سے شادی کی۔

شروع میں ان کا رجحان سیاست کی طرف نہیں تھا بلکہ وہ تو یہ چاہتی تھیں کہ ان کے شوہر بھی آبائی سیاست سے دور رہیں۔ جب تک راجیو گاندھی بھارتی وزیراعظم رہے سونیا بالکل منظر عام پر نہیں آئیں یہاں تک کہ راجیو گاندھی کے قتل کیے جانے کے چھ سال تک نہرو گاندھی خاندان کا کوئی ارکان نہ کانگریس میں تھا اور نہ ہی حکومت میں۔

لیکن سنہ انیس سو ستانوے میں کانگریس کی انتخابات میں شکست کے بعد جس لمحے جماعت تتر بتر ہو رہی تھی سونیا نے سیاست میں آ کر جماعت کو سنبھالنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم کانگریس کو نہرو گاندھی خاندان پر بےحد بھروسہ ہے لیکن سونیا نے نکتہ چینی سے بچنے کے لیے وہ کیا جو عام طور پر زیادہ تر سیاست دان نہیں کرتے۔ وہ منطرعام پر آنا پسند نہیں کرتیں۔

یہی وجہ ہے کہ ان کے وزیراعظم نہ منتخب ہونے کے فیصلے کے باعث تمام نکتہ چینی منموہن سنگھ ہی کو سہنی پڑتی ہے۔

وہ بہت کم انٹرویو دیتی ہیں، پارلیمان میں کم ہی بولتی ہیں اور حکومت کو جب کوئی سنجیدہ مسائل درپیش ہوں تو عوامی سطع پر آ کر مسائل کے بیچ میں نہیں پڑتیں۔ لیکن اس کے باوجود عوام اور پریس میں انہیں پسند کیا جاتا ہے۔

ریلیوں کے دوران سونیا گاندھی ہمیشہ اپنی ساس سے سیکھا ہوا جملہ، ’میں غریبوں کے ساتھ ہوں‘، دہراتی ہیں بلکہ صرف دہراتی ہی نہیں ہیں انھوں نے منموہن سنگھ کے ذریعے دیہی علاقوں کے بے روزگار افراد کی ایک بڑی تعداد کے لیے کام کاج اور راشن پانی کی سکیمیں بھی شروع کرائیں ہیں۔

جانشینی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption راہول گاندھی کے کانگریس کے اگلے رہنماء منتخب کیے جانے کا امکان

بھارتی حکومت کی جانب سے خاص طور پر سونیا گاندھی کے امریکہ جانے کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا نہ ہی یہ بتایا گیا کہ ان کو کیا بیماری ہے اور کون سے ہسپتال میں ہیں۔

حکومت کے مطابق، سونیا گاندھی کی بیماری و صحت ان کا ذاتی مسئلہ ہے اور عوام کو ان کے خاندان کی جانب سے رازداری کی درخواست کا احترام کرنا چاہیے۔

لیکن بھارت کے دو سب سے بڑے کاروباری اخبار اس مؤقف سے متفق نہیں ہیں۔ ان دو اخبار میں سے ایک ’ایکانامک ٹائمز‘ کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ کچھ ایسا ہے جیسا پچھلے زمانوں میں کمیونسٹ پارٹیوں کے ضعیف رہنماؤں کو بیماری کے دوران نامعلوم مقامات پر عوام کو بغیر اطلاع دیے رکھا جاتا تھا اور وہ وہیں دم توڑ دیتے تھے۔

لیکن ایک مرتبہ پھر سونیا گاندھی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ انھیں زیادہ تر جمہوری سیاست دانوں کی طرح اپنے عمل کی وضاحت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

اس سے بڑھ کر یہ کہ انھوں نے کہا ہے کہ وقت آنے پر وہ کانگریس کا اگلا رہنماء خود منتخب کریں گی اور وہ ان کا اپنا اکتالیس سالہ بیٹا راہول گاندھی ہو گا۔

کانگرس کے جاری کیے گئے ایک بیان کے تحت جب تک سونیا گاندھی امریکہ میں زیرِعلاج رہیں گی بھارت میں کانگریس کے تمام فیصلے راہول گاندھی سمیت سونیا گاندھی کے تین قریبی حامی کریں گے۔

لیکن ایک سوال ضرور رہ گیا ہے جس کا جواب اب تک نہیں مل سکا۔

جب راہول گاندھی کو کانگریس کا نیا سربراہ منتخب کیے جانے کا وقت آئے گا اس لمحے سونیا کیا فیصلہ کریں گی؟ کیا وہ چاہیں گی کہ راہول گاندھی وزیراعظم کا عہدہ سنبھالیں یا پھر وہ اپنی طرح انھیں بھی پس منظر میں اختیارات کی باگیں تھامے دیکھنا چاہیں گی؟

دونوں صورتوں میں راہول گاندھی کو اپنے آپ کو سمجھانا ہوگا اور فیصلوں کی ذمہ داری قبول کرنا ہو گی۔

اسی بارے میں