بدعنوانی کے خلاف انا ہزارے کی لڑائی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انا ہزارے کے ساتھ لوگ جوق در جوق شامل ہو رہے ہیں۔

بھارت کی مغربی ریاست مہاراشٹر میں رالےگان سدھی سر سبز پہاڑوں کے اوپر ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔

گاؤں کے مرکزی چوراہے میں چند عمر رسیدہ لوگ بیٹھے چائے کی پیالی پر دن بھر کی خبروں پر بحث کررہے تھے۔ یہ ایک رومانوی منظر ہے جو کہ ایک ارب بیس لاکھ افراد کی آبادی والے اس ملک کے کسی اور گاؤں میں نظر آنا مشکل نہیں ہے۔

لیکن گاؤں سے تھوڑی دور پر ایک ہندو مندر کے ساتھ ایک بہت بڑے اور پرانے برگد کے درخت کے سائے کے نیچے رونما ہونے والے واقعہ سے اس گاؤں کا پرسکون ماحول تباہ ہو سکتا ہے۔

سفید لباس میں ملبوس، سر پر سفید ٹوپی پہنے ایک چھوٹے سے قد والا ستر سالہ شخص ٹی وے کیمرے اور مائیک اٹھائے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کر رہا ہے۔

قریب ہی کھڑے مختلف چینلوں کی ویگینوں کے ذریعے یہ پریس کانفرنس ملک بھر میں براہ راست نشر کی جا رہی ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرنے والا یہ شخص انا ہزارے ہے جو بھارت میں کرپشن کے خلاف تحریک چلا رہا ہے اور حکومت کے لیے ایک مستقل دردِ سر بن گیا ہے۔

انا ہزارے کی عدم تشدد کی تحریک نے معاشرے میں انتہا درجے کی بدعنوانی اور رشوت ستانی سے تنگ آئے ہوئے کروڑوں عوام میں مقبولیت حاصل کر لی ہے اور اسی وجہ سے انا ہزارے کو جدید دور کے گاندھی کے لقب سے نوازا گیا ہے۔

ہوا میں اپنی انگلی لہراتے ہوئے انا نے کہا ’یہ کر گزرنے یا مرجانے کا وقت ہے جو صورت حال تحریک آزادی کے وقت تھی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ یا تو وہ اپنے مشن میں کامیاب ہوجائیں گے یا پھر قربان ہو جائیں گے۔

انا ہزارے نے کہا کہ حکومت لوگوں کو بے وقوف بنانا چاہتی ہے اور وہ ایسا نہیں ہونے دیں گے۔

رالے گان سدھی سے انا ہزارے کا تعلق ہے اور یہیں سے وہ اپنی تحریک چلا رہے ہیں جس کے حامیوں اور رضا کاروں میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے۔

اور یہیں سے آپ کو بھارت کا مستقبل نظر آتا ہے۔

گزشتہ دہائی کے دوران انا ہزارے کے بنائے گئے مختلف ترقیاتی منصوبوں کی وجہ سے ایک پسماندہ، خشک سالی اور دیگر بے پناہ مسائل میں گھرے ہوئے اس گاؤں کو اب عالمی ترقیاتی بینک کی طرف سے ایک جدید ماڈل ولیج کا درجہ دے دیا گیا ہے۔

گاؤں کے ایک چھوٹے سے چھپر کے نیچے میری ملاقات چایا منوری سے ہوئی جو اپنے بچوں کے لیے کھانا بنا رہی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مغربی بھارت کے گاؤں رالے گان سدھی سے انا ہزارے کا تعلق ہے

انھوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب یہ بدترین جگہ تھی، جرائم عام تھے، شراب نوشی عروج پر تھی اور بے روز گاری کا دور دورہ تھا۔

لیکن صورت حال اب بہت مختلف ہے۔

انا ہزارے نے یہاں انقلاب برپا کر دیا ہے اور صورت حال یک سر تبدیل کر دی ہے لیکن کیا ایسی جگہوں پر بھی ممکن ہے خاص طور پر وہاں جہاں کچھ لوگوں کے مفادات پر ضرب پڑتی ہو۔

گزشتہ چند برسوں میں بھارت میں درجنوں افراد بدعنوانیوں کے خلاف آواز اٹھانے کی پاداش میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

بھارت کے دارالحکومت دہلی سے دو سو کلو میٹر شمال میں ایک گاؤں چندروال ہے۔

میں نے اس گاؤں میں جگدیش شرما کے گھر پر ان سے ملاقات کی۔ سادہ کپڑوں میں ملبوس ایک مسلح شخص ان کے مکان کے باہر پہرہ دے رہا تھا۔

چند ماہ قبل جگدیش شرما نے گاؤں کی کونسل کے سربراہ کے خلاف پینشن سکیم سے پیسہ خرد برد کرنے کے الزام میں مقدمہ دائر کیا تھا۔

جگدیش شرما نے مجھے بتایا کہ جس دن انہوں نے یہ مقدمہ درج کیا اسی دن ان کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا۔

انھوں نے کہا کہ وہ اپنے اہلخانہ کے ساتھ رات کا کھانا کھا رہے تھے کہ گاڑی میں سوار کچھ لوگ ان کے گھر کے باہر پہنچے اور ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے مغلظات بکنا شروع کر دیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ ان سے بات کرنے کے لیے باہر نکلے۔ جدگیش نے کہا ’یہ ہنگامہ سن کر ان کی بہو بھی باہر نکل آئی۔ ان غنڈوں نے اس کے اوپر گاڑی چڑھا دی اور میرا پاؤں بھی گاڑی کے نیچے آ گیا۔‘

اس گاؤں کا سکھیا اب قتل اور بدعنوانی کے الزام میں جیل میں ہے۔

بدعنوانی اور رشوت ستانی بھارت کے شہریوں کے لیے کوئی نئی چیز نہیں ہے لیکن اب لوگ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کیا بدعنوانی بھارت کی ترقی کی راہ میں حائل ہو رہی ہے۔

معروف مؤرخ پیٹرکی فرنچ جن کی بھارت کی تاریخ پر کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں لکھتے ہیں کہ یہ بالکل واضح ہے کہ چند برس قبل بھارت میں جو ایک امید پائی جاتی تھی وہ اب کم ہو رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اب اکثر لوگوں کا اور خاص طور پر ان کا جو بیرونی سرمایہ کاری اور تجارت سے وابستہ ہیں کہنا ہے کہ انھیں ہر کام کے لیے رشوت دینا پڑتی ہے اور اکثر جس کام کے لیے انھیں رشوت دینی پڑی انھیں وہ ملا بھی نہیں۔

ان کے خیال میں وہ وقت آ گیا ہے جب بھارتی شہری اس بدعنوانی کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کے لیے تیار ہیں۔

اسی وجہ سے انا ہزارے کو ملک بھر سے حمایت مل رہی ہے اور حکومت ان سے اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھنے لگی ہے۔

اسی بارے میں