انا کی گرفتاری، ایوانوں میں ہنگامہ آرائی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دونوں ایوانوں کی کارروائی پہلے دو مرتبہ معطل پھر ملتوی کردی گئی۔

سماجی کارکن انا ہزارے اور ان کے ساتھیوں کے خلاف حکومت کی کارروائی کی گونج بھارتی پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں بھی سنائی دی ہے جہاں پہلے حکمراں جماعت اور پھر حزب اختلاف کے ہنگامے کی وجہ سے کوئی کارروائی نہیں ہو سکی۔

ایوان زیریں یا لوک سبھا میں حزب اختلاف کی رہنماء سشما سوراج نے کہا کہ وزیر اعظم من موہن سنگھ خود پارلیمان میں آ کر بیان دیں اور وزیر داخلہ پی چدمبرم کا بیان انہیں قابل قبول نہیں ہے۔

انا ہزارے کو گرفتار کرلیا گیا

بدعنوانی کے خلاف انا ہزارے کی لڑائی

دلی سے بی بی سی کے نامہ نگار سہیل حلیم کے مطابق، دونوں ایوانوں کی کارروائی پہلے دو مرتبہ معطل کی گئی لیکن ہنگامہ جاری رہنے کی وجہ سے بدھ تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

حزب اختلاف کا الزام ہے کہ حکومت نے انا ہزارے اور ان کے ساتھیوں کو بھوک ہڑتال اور دھرنے کی اجازت نہ دے کر ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی ہے۔

سشما سوراج نے کہا کہ ایوان کی کارروائی چلانا حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن ’پارلیمانی امور کے وزیر پون کمار بنسل خود ایوان کی کارروائی میں رخنہ ڈال رہے ہیں کیونکہ حکومت انا ہزارے کے خلاف کارروائی پر بحث سے بچنا چاہتی ہے۔‘

انا ہزارے نے بدعنوانی اور رشوت ستانی کے خلاف سولہ اگست سے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال اور دھرنا شروع کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن دلی پولیس نے انہیں اس کی اجازت نہیں دی تھی۔

منگل کی صبح سویرے ہی انہیں حراست میں لے لیا گیا تھا لیکن ان کے ساتھیوں کا دعوٰی ہے کہ وہ حراست میں بھی بھوک ہڑتال پر ہیں۔

انا ہزارے کو حراست میں لیے جانے کے بعد ان کے ایک ساتھی اور سپریم کورٹ کے مشہور وکیل پرشانت بھوشن نے کہا ’یہ مہم اب بدعنوانی کے خاتمے کے لیے نہیں جمہوریت کے تحفظ کے لیے چلائی جائے گی اور حکومت کی کارروائی کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ اس کارروائی سے ملک میں ایمرجنسی کے دور کی یادیں تازہ ہوگئی ہیں۔‘

ملک کے کئی شہروں سے انا ہزارے کی حمایت میں مظاہروں کی اطلاعات ہیں۔ انا ہزارے نے لوگوں سے گرفتاری دینے کی اپیل کی تھی لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اس اپیل پر کتنے لوگوں نے گرفتاریاں دی ہیں۔

دلی پولیس کی کارروائی کے خلاف پرشانت بھوشن نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس سے پہلے صبح وزیر اعظم نے سیاسی امور سے متعلق کابینہ کی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا تھا جس میں مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

بی جے پی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی نے کہا کہ انا ہزارے کو حراست میں لیے جانے پر انہیں کوئی حیرت نہیں ہوئی ہے۔ ان کے بقول ’حکومت بدعنوانی کے خلاف کارروائی کرنے کی بجائے پُرامن مظاہرین کو نشانہ بنا رہی ہے۔‘

اسی بارے میں