کشمیر: امریکی سینیٹر کی حکام سے ملاقاتیں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سرکاری ذرائع نے بتایا کہ جان مکین اپوزیشن رہنما محبوبہ مفتی سے بھی ملاقات کریں گے

امریکی سینیٹر اور سابق صدارتی امیدوار جان مکین نے بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں سِول اور فوجی حکام کے ساتھ ملاقات کی ہے۔

امریکہ کی حزب اختلاف کی جماعت ریپبلیکن پارٹی کے رہنما اور سینیٹر جان مکین نے کسی اعلان کے بغیر بھارت کے زیرانتظام کشمیر کا دورہ کیا ہے۔

نامہ نگار ریاض مسرور کے مطابق منگل کو امریکی سینیٹر کی سرینگر میں کشمیر کے گورنر نریندر ناتھ ووہرا سے ملاقات ہوئی اور بعد میں وزیراعلیٰ عمرعبداللہ کے ساتھ بھی تفصیلی گفتگو کی۔

اس موقع پر بھارتی فوج کی شمالی کمان کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل کے ٹی پرنائیک اور کشمیر میں تعینات پندرہویں کور کے کمانڈر ایس اے حسنین بھی موجود تھے۔

ایک سرکاری ترجمان نے اس ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ امریکی رہنما نے گورنر اور فوجی حکام کے ساتھ دو گھنٹے تک تبادلہ خیال کیا۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ جان مکین اپوزیشن رہنما محبوبہ مفتی سے بھی ملاقات کریں گے تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ وہ علیٰحدگی پسند رہنماؤں سے بات چیت کریں گے یا نہیں۔

لیکن علیٰحدگی پسند اس دورے سے کافی پرامید ہیں اور حریت کانفرنس کے ایک دھڑے کے سربراہ میر واعظ عمرفاروق نے کہا ہے اگرچہ جان مکین اپوزیشن رہنما ہیں لیکن امریکہ میں مسئلہ کشمیر کے حل کی ضرورت پر سیاسی حلقوں میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ صدر بش ہوں یا صدر اوباما، سب نے مسئلہ کشمیر کی ضرورت اور ہندپاک دوستی پر زور دیا ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ مسٹر مکین سرکاری لوگوں کے علاوہ عام لوگوں کی رائے کو بھی خاطر میں لائیں گے۔‘

جان مکین کے ہمراہ خارجہ پالیسی کے لیے ان کے دو مشیر کرسچن بروس اور وانس سرچُک کے علاوہ فوجی افسر لیفٹیننٹ لارنس ورتھ بھی تھے۔

واضح رہے گزشتہ کئی دہائیوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی اعلیٰ امریکی شخصیت نے کشمیر کا دورۂ کیا ہے۔

امریکی رہنماؤں کا ماضی میں کشمیر کا دورہ سیاسی ہلچل کا باعث بنا ہے۔

1953 میں جب بھارت میں اُس وقت کے امریکی سفیر اڈلائی سٹیوینسن نے کشمیر کا دورہ کا تھا تو چند روز بعد ہی کشمیر کے اُس وقت کے حکمران شیخ محمد عبداللہ کو بھارت کے خلاف بغاوت کی سازش کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

اسی بارے میں