’انّا ہزارے تحریک اور میڈیا کا کردار‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

بھارت میں بدعنوانی اور رشوت ستانی پر قابو پانے کے سرکاری لوک پال بل اور سماجی کارکن انّا ہزارے کے تجویز کردہ بل میں کیا فرق ہے اور کیا انّا ہزارے کی مہم ملک گیر سطح پر ہے یا چند مخصوص شہروں یا علاقوں تک محددو ہے اور اس میں میڈیا کا کتنا کردار ہے۔

اس پر بھارت کے میگزین آؤٹ لک انڈیا کے چیف ایڈیٹر ونود مہتا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انّا ہزارے کے تجویز کردہ بل میں ایک شق یہ ہے کہ اگر وزیراعظم پر بھی بدعنوانی کے الزامات لگتے ہیں تو سرکاری عہدیداروں کے خلاف شکایات کی تحقیق پر مامور افسر یا محتسب اس کی بھی تحقیقات کر سکتا ہے۔

لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ بھارت میں ماحول ایسا ہے کہ کوئی بھی وزیراعطم کے خلاف بدعنوانی کے الزامات عائد کر سکتا ہے اور اس صورت میں وزیراعظم کو مستعفی ہونا پڑے گا اور حکومت گر جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ حکومت کا کہنا ہے کہ وزیراعطم کا نام اس بل میں ضرور شامل ہونا چاہیے لیکن جب تک وہ وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہیں اس وقت تک یہ بل ان پر لاگو نہیں ہو گا اور جس دن ان کے پاس یہ عہدہ نہیں رہے گا اس وقت جو بھی ان کے خلاف کارروائی کرنا چاہتے ہیں کر سکتے ہیں۔

وزیراعظم لوک پال بل کے دائرے سے باہر

واضح رہے کہ بھارت میں اعلیٰ ترین سطح پرحکومتی بدعنوانی کی تفتیش اور اس سے نمٹنے کے لیے ایک آزاد نگراں ادارے’لوک پال‘ کے قیام کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں

ایک سوال کے انّا ہزارے کی تحریک سے حکومت کا تختہ پلٹ سکتا ہے تو اس پر ونود مہتا نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ اس وجہ سے سرکار گر جائے گی، لیکن کسی بھی ملک میں مڈل کلاس کسی کی حمایت کرتی ہے تو اس کو میڈیا بھی کوریج دیتا ہے اور بھارت میں بھی ایسا ہی ہو رہا اور نیوز چینلز چوبیس گھنٹے اس مسئلے کی کوریج کر رہے ہیں۔

’بھارت میں بدعنوانی کے معاملے پر لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ آزادی کی جنگ ہے، ایک آزادی انگریزوں سے ملی تھی اور ایک آزادی بدعنوانی سے حاصل کرنا ہے۔‘

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ یہ حکومت تو مانتی ہے کہ بدعنوانی بہت ہے، اور یہ ایسی بدعنوانی ہے کہ اگر کہیں ہزار کروڑ کا ٹھیکہ ہے تو اس میں بیس سے تیس فیصد کریشن ہو جاتی ہے، اب بھی دو سے تین وزیر جیل میں ہیں، کریشن تو بہت ہے لیکن اس کو کس طرح ختم کیا جائے اس پر کو اتفاق رائے نہیں ہے۔‘

ایک سوال کہ بھارت میں بدعنوانی ایک بڑا مسئلہ تو ہے لیکن یہ کیوں کہا جا رہا کہ اس ضمن میں تحریک میڈیا چلا رہا ہے۔

اس پر بھارت کے ایک آن لائن اخبار اور ہفتہ وار میگزین تہلکہ ڈاٹ کام کی مدیر شوما چوہدری نے کہا کہ ’ اس میں کچھ تو سچائی ہے کیونکہ بدعنوانی کے خلاف تحریک کو میڈیا کی بہت توجہ حاصل ہے، اگر دیکھا جائے تو اس سے پہلے بھارت میں زمین کے حصول، نقل مکانی اور قبائلی مسائل پر تحریکیں چلائی جاتی ہیں لیکن الیکڑانک میڈیا کی زیادہ توجہ نہ حاصل ہونے کی وجہ سے یہ تحریکیں اتنی شدت اختیار نہیں کر پاتی ہیں۔‘

ایک سوال کے اگر بھارت میں بدعنوانی ایک بڑا مسئلہ ہے تو اس تحریک میں لاکھوں افراد کو سڑکوں پر آنا چاہیے تھا تو اس پر شوما چوہدری نے کہا کہ ’ اگر آپ عام لوگوں سے پوچھیں کہ کیا آپ اس تحریک کے ساتھ ہیں تو میرے خیال میں وہ اس کا ساتھ دیں گے لیکن لاکھوں لوگ سڑکوں پر اس لیے نہیں آئے ہیں کیونکہ لوگوں کو بدعنوانی کے خلاف بل کی زیادہ سمجھ نہیں ہے اور زیادہ تر یہ شہروں کا مسئلہ ٹھہرایا گیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح بدعنوانی کی وضاحت کی جا رہی ہے وہ صرف مالی کریشن کی ہے اور اس میں ٹو جی سکینڈل یا بڑے بڑے کارپوریٹ سکینڈل ہیں اور عام آدمی کو شاید اتنی سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ ان کی زندگیوں میں اس سے کیا فرق پڑے گا۔

میڈیا کے کردار کے حوالے سے ایک سوال پر شوما چوہدری نے کہا کہ میڈیا نے جارحانہ رویہ اپنایا یا حد تجاوز کر رہا ہے، اور اس وقت جو ماحول پیدا ہوا ہے اس میں میڈیا کا کردار ٹھیک ہے کیونکہ اس سے پہلے حکومتوں کو مکمل استثنیٰ حاصل ہوتی تھی اور کہتی تھی کہ سب اچھا ہے، میڈیا بھی اپنا کردار ادا نہیں کر رہا تھا لیکن اب میڈیا کے رویے کی وجہ سے حکومت کو سوچ سمجھ کر چلنا پڑے گا تاکہ بدعنوانی تھوڑی کم ہو۔‘

اسی بارے میں