’انّا ہزارے اپنا بل تھوپنا چاہتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’بدعنوانی کے کینسر کو ختم کرنے کے لیے کوئی جادو کی چھڑی نہیں‘

بھارت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ سول سوسائٹی کے نمائندوں نے اپنے مطالبات منوانے کے لیے جو راستہ اختیار کیا ہے وہ جمہوریت کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

منموہن سنگھ حزب اختلاف کے دباؤ کے سامنے جھکتے ہوئے سماجی کارکن انا ہزارہ اور ان کے ساتھیوں کی گرفتارے کے مسئلے پر پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں بیان دے رہے تھے۔

اناّ کو رہائی پر آمادہ کرنے کی کوششیں جاری

انا ہزارے اور ان کے ساتھیوں نے ملک میں بدعنوانی کے خلاف بڑے پیمانے پر مہم چھیڑ رکھی ہے اور وہ حکومت کو ایک نیا سخت قانون وضع کرنے کے لیے منگل کی صبح سے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کرنا چاہتے تھے لیکن پولیس نے انہیں اس کی اجازت نہیں دی تھی۔

انا ہزارے کو دھرنے اور بھوک ہڑتال سے روکنے کے لیے پولیس نے منگل کی صبح ہی گرفتار کر لیا تھا۔

اس کے بعد حزب اختلاف نے پارلیمان کی کارروائی نہیں چلنے دی جبکہ ملک کے بہت سے شہروں میں لوگ انا ہزارے کی حمایت میں سڑکوں پر اتر آئے۔ رات دیر گئے انا ہزارے کی رہائی کا حکم دے دیا گیا تھا لیکن وہ اس وقت تک جیل سے باہر آنے کے لیے تیار نہیں ہیں جب تک انہیں بلا شرط بھوک ہڑتال کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

دلّی سے نامہ نگار سہیل حلیم کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ ’اس بات پر کوئی اختلاف نہیں ہے کہ لوک پال بل منظور کیا جانا چاہیے، لیکن سوال یہ ہےکہ یہ بل کون بنائے گا؟’

انا ہزارے چاہتے ہیں کہ وزیر اعظم کے عہدے کو بھی لوک پال بل کے دائرے میں لایا جائے جس کے لیے حکومت تیار نہیں ہے۔

منموہن سنگھ نے کہا کہ ’قانون سازی کا اختیار صرف پارلیمان کو حاصل ہے لیکن انا ہزارے اپنے بل کا مسودہ پارلیمان پر تھوپنا چاہتے ہیں۔۔۔ انہوں نے جو راستہ اختیار کیا ہے، پارلیمانی جہموریت کے لیے اس کے سنگین مضمرات ہوسکتے ہیں۔۔۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ صرف وہ ایک اعشاریہ دو ارب لوگوں کی نمائندگی کرتے ہیں، انہیں اس بارے میں دوبارہ غور کرنا چاہیے‘۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ’بدعنوانی کے کینسر کو ختم کرنے کے لیے کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہے اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کئی محاذوں پر ایک ساتھ کارروائی کرنی ہوگی۔’

حال ہی میں بھارت میں ہونے والے ایک سروے میں آدھے سے زیادہ لوگوں نے کہا تھا کہ وہ بدعنوانی کو دہشت گردی سے بھی بڑا مسئلہ مانتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption انّا ہزارے کی حمایت میں بھارت بھر میں مظاہرے ہوئے ہیں

وزیر اعظم نے اقتصادی ترقی کی رفتار کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’کچھ طاقتیں بھارت کو عالمی سٹیج پر ابھرتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتیں لیکن ہمیں ان کے ہاتھوں میں نہیں کھیلنا چاہیے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ سول سوسائٹی کے نمائندوں کو، اراکین پارلیمان کو وہ کام کرنے دینا چاہیے جس کے لیے وہ منتخب کیے گئے تھے۔

اگرچہ وزیر اعظم نے اختلافات کو بات چیت کے ذریعہ حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا لیکن اس بات کا امکان فی الحال کم ہی نظر آرہا ہے کہ انا ہزارے اور ان کی ٹیم سے مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کیا جاسکتا ہے۔

انا ہزارے ابھی تہاڑ جیل کے اندر ہی ہیں اور جیل کے باہر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہیں۔ انا ہزارے اور ان کے ساتھیوں کو پہلے ذاتی مچلکوں کو پر رہا کرنے کی پیش کش کی گئی تھی لیکن انہوں نے ضمانت کی شرائط پوری کرنے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد مجسٹریٹ نے انہیں سات دن کے لیے جیل بھیج دیا تھا۔

حزب اختلاف کی جانب سے ہنگامے کے درمیان من موہن سنگھ نے کہا کہ ہر شہری کو پر امن طور پر ا حتجاج کا حق حاصل ہے لیکن مظاہروں کی اجازت دیتے وقت مناست شرائط ہمیشہ عائد کی جاتی ہیں۔ دلی پولیس نے انا ہزارے سےکہا تھا کہ وہ تین دن کے اندر اپنا دھرنا ختم کردیں۔

اسی بارے میں