جج کے خلاف مواخذے کی کارروائی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سومترو سین کی عمر ترپن برس ہے اور انہوں نے اپنے وکیلوں کی مدد سے خود اپنا دفاع کیا

بھارتی پارلیمان کے ایوان بالا یا راجیہ سبھا نے تاریخ میں پہلی مرتبہ عدالت کے طور پر کام کرتے ہوئے کلکتہ ہائی کورٹ کے جج سومترو سین کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کی ہے۔

سومترو سین پر الزام ہے کہ جب انہیں کلکتہ ہائی کورٹ نے رسیور یا نگراں مقرر کیا تھا تو انہوں نے اس رقم میں خرد برد کی تھی جو ان کی نگرانی میں دی گئی تھی۔ اور دوسرا الزام یہ ہے کہ اس سلسلے میں انہوں نے عدالت کے سامنے غلط بیانی سے کام لیا تھا۔

مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کے چئرمین سیتا رام یچوری نے ان کے خلاف تحریک پیش کرتے ہوئے کہا کہ سومترو جین جج کے عہدے پر فائز رہنے کے مستحق نہیں ہیں۔

’میں یہ واضح کرنا چاہتوں ہوں کہ یہ تحریک عدلیہ کے خلاف نہیں ہے، جس کا ہم بہت احترام کرتے ہیں، بلکہ ایک جج کے غلط رویہ کے خلاف ہے۔ یہ تحریک عدلیہ کو مضبوط کرنے کے لیے ہے۔‘

سومترو سین کی عمر ترپن برس ہے اور انہوں نے اپنے وکیلوں کی مدد سے خود اپنا دفاع کیا۔

انہوں نے کہا کہ ان پر مالی بے ضابطگیوں کے جو الزامات لگائے گئے ہیں وہ درست نہیں ہیں اور اس وقت وہ جج نہیں بلکہ ایک وکیل تھے۔ انہوں نے کہا کہ’ میری ایمانداری اور سچائی پر کبھی کوئی الزام نہیں لگایا گیا ہے۔ اور یہ کہ ہائی کورٹ کا ایک ڈویژن بنچ ان الزامات کو مسترد کر چکا ہے۔‘

جسٹس سومتروں سین نے کئی مرتبہ کہا کہ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس کے جی بالا کرشنا نے تعصب سے کام لیا تھا اور جب الزامات کی تفتیش کے لیے ججوں کی کمیٹی تشکیل دی تھی تو وہ انہیں پہلےسے ہی قصور وار خیال کیا جا رہا تھا۔

راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے لیڈر اور سرکردہ وکیل ارون جیٹلی نے کہا کہ سومترو سین نے شروع سے ہی بحیثیت وکیل اور بحیثیت جج ضابطوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

’انہیں بھارت کے سابق چیف جسٹس سے شکایت ہوسکتی ہے لیکن ہم ان کی رائے پر تو یہ کارروائی نہیں کر رہے، ہم تو آزادانہ طور پر حاصل کیے جانے والے شواہد کی بنیاد پر کارروائی کر رہے ہیں۔‘

سماعت کے بعد تحریک پر ووٹنگ ہوگی اور اگر ایوان میں موجود اراکین دو تہائی اکثریت سے اسےمنظور کردیتے ہیں تو اسے ایک ہفتےکے اندر لوک سبھا کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

اس سے پہلے انیس سو ترانوے میں لوک سبھا میں سپریم کورٹ کے جج وی راماسوامی کے خلاف مواخذے کی تحریک پیش کی گئی تھی لیکن ووٹنگ سے قبل کانگریس نے ایوان سے واک آؤٹ کردیا تھا جس کی وجہ سے یہ کوشش کامیاب نہیں ہوسکی تھی۔

اسی بارے میں