’پندرہ روزہ بھوک ہڑتال کی پیشکش پر راضی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption انّا ہزارے کی حمایت میں بھارت بھر میں مظاہرے ہوئے ہیں

بھارت میں بدعنوانی کے خلاف مہم چلانے والے بزرگ سماجی کارکن انا ہزارے کے ایک قریبی ساتھی کے مطابق وہ پولیس کی اس پیشکش پر راضی ہو گئے ہیں جس کے تحت وہ ایک عوامی پارک میں پندرہ روز کے لیے بھوک ہڑتال کر سکیں گے۔

انا ہزارے کے قریبی ساتھ کرن بیدی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ انا آج یعنی جمعرات کو بھوک ہڑتال شروع کریں گے۔

اس اعلان پر جیل کے باہر جمع انا ہزارے کے ہزاروں حامیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

بدھ کی صبح سے ہی تہاڑ جیل کے باہر انّا کے ہزاروں حامی جمع ہیں اور بھارتی جھنڈے اٹھائے ہوئے یہ لوگ حکومت کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں۔ جمعرات کو انہوں نے انا کی جانب سے پیشکش کو قبول کیے جانے پر خوشی کا اظہار کیا۔

پہلے پولیس انا ہزارے کو صرف تین دن کی بھوک ہڑتال کی اجازت دے رہی تھی۔

اس سے پہلے وزیرِاعظم من موہن سنگھ نے کہا تھا کہ سول سوسائٹی کے نمائندوں نے اپنے مطالبات منوانے کے لیے جو راستہ اختیار کیا ہے وہ جمہوریت کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

’انّا ہزارے تحریک اور میڈیا کا کردار‘

بدعنوانی کے خلاف انا ہزارے کی لڑائی

انا کی گرفتاری اور احتجاج: تصاویر

انا ہزارے کو پولیس نے منگل کی صبح مشرقی دلّی کے ایک مکان سے گرفتار کیا گیا تھا جہاں وہ ٹھہرے ہوئے تھے۔ وہ منگل کی صبح غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کرنے والے تھے لیکن پولیس نے انہیں اس کی اجازت نہیں دی تھی۔

گرفتاری کے بعد حکم امتناعی کی خلاف ورزی نہ کرنے کےتحریری وعدے سے انکار پر انہیں سات دن کی عدالتی تحویل کے تحت تہاڑ جیل بھیج دیا گیا تھا۔

تاہم متعدد شہروں میں بڑے پیمانے پر شدید احتجاج اور ہر حلقے کی جانب سے نکتہ چینی کے تناظر میں حکومت نے گرفتاری کے چند گھنٹے بعد ہی انا ہزارے اور ان کے ساتھیوں کو رہا کرنےکا فیصلہ کیا تھا لیکن انا نے جیل سے باہر آنے سے انکار کر دیا۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ غیر مشروط رہائی چاہتے ہیں اور وہ اسی وقت جیل سے باہر آئیں گے جب انہیں سیدھے جے پرکاش نارائن پارک جانے کی اجازت دی جائے گی جہاں وہ غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال کریں گے۔

دلیّ سے نامہ نگار شکیل اخیر کے مطابق منگل کو رات دیر گئے انا ہزارے کے ایک ساتھی منیش سیسودیا جیل سے باہر آئے اور انہوں نے وہاں موجود صحافیوں کو بتایا کہ انا کو مشروط رہائی قبول نہیں ہے۔انہوں نے بتایا کہ انا نے جیل کے اندر بھوک ہڑتال شروع بھی کر دی ہے۔

دلی پولیس نے تہاڑ جیل کے باہر سکیورٹی انتظامات سخت کر دی ہے اور خدشہ ہے دن میں انا حامیوں کی بھاری تعداد وہاں جمع ہو سکتی ہے۔انا کے جیل سے باہر نہ آنے کے فیصلے کے بعد چھترسال سٹیڈیم میں زیرِ حراست ان کے حامی بھی رہائی کے باوجود وہاں سے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption تہاڑ جیل کے باہر انّا کے ہزاروں حامی جمع ہیں

دوسری جانب بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے حزبِ اختلاف کے دباؤ کے سامنے جھکتے ہوئے سماجی کارکن انا ہزارہ اور ان کے ساتھیوں کی گرفتارے کے مسئلے پر پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’اس بات پر کوئی اختلاف نہیں ہے کہ لوک پال بل منظور کیا جانا چاہیے، لیکن سوال یہ ہےکہ یہ بل کون بنائے گا؟‘

ان کا کہنا تھا کہ ’قانون سازی کا اختیار صرف پارلیمان کو حاصل ہے لیکن انا ہزارے اپنے بل کا مسودہ پارلیمان پر تھوپنا چاہتے ہیں۔۔۔ انہوں نے جو راستہ اختیار کیا ہے، پارلیمانی جہموریت کے لیے اس کے سنگین مضمرات ہوسکتے ہیں۔۔۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ صرف وہ یہ سوا ایک اعشاریہ دو ارب لوگوں کی نمائندگی کرتے ہیں، انہیں اس بارے میں دوبارہ غور کرنا چاہیے‘۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ انّا ہزارے کا رہائی سے انکار بھارتی حکومت کے لیے ایک بڑا دھچکا سمجھا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں