بے چارے منموہن کیا کریں ؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بھارت میں بدعنوانی اور رشوت ستانی کے خلاف مہم کے علم بردار انا ہزارے جمعہ کی صبح تہاڑ جیل سے نکل کر اپنے ہزاروں حامیوں کے ہمراہ دلی کے رام لیلا میدان پہنچ گئے ہیں۔ جمعرات کو ان کی بھوک ہڑتال کا مسلسل چوتھا دن ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ بد عنوانی کے خلاف ایک مؤثر ادارے کے قیام تک وہ اپنی بھوک ہڑتال جاری رکھیں گے ۔

انا ہزارے اور ان کے ساتھیوں کا مطالبہ ہے کہ اعلی حکومتی سطح پر بدعنوانی کے لیے انہوں نےجو ’'جن لوک پال‘ بل تیار کیا ہے حکومت اسے قانون کی شکل دے۔ ادھر حکومت نے بھی ایک بل پیش کیا ہے لیکن وہ سول سوسائٹی کو منظور نہیں ہے ۔

انا ہزارے کا کہنا ہے کہ لوک پال کے دائرے اختیار میں وزیر اعظم ، عدلیہ اور تمام سرکاری افسران کو بھی شامل کیا جائے تاکہ عام لوگوں کو روزمرہ کی زندگی میں درپیش بدعنوانی کا سدِ باب کیا جا سکے ۔ لیکن حکومت عدلیہ اور وزیر اعظم کو لوک پال کے دائرے میں لانے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ سول سوسائٹی کو حکومت کے بل میں لوک پال کمیٹی کے ارکان کے انتخاب پر بھی اعتراض ہے جس پر بقول اس کے حکومت کا پورا کنٹرول ہو گا۔

وزیر اعظم منموہن سنگھ کی حکومت اس وقت شدید تزبزب کی حالت میں ہے۔ ایک طرف تو تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متف‍ق ہیں کہ قانون بنانے کا حق صرف پارلیمنٹ کو ہے اور پارلیمنٹ کے باہر کسی شخص کو قانون سازی کے عمل پر اثر انداز ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔ دوسری جانب انا ہزارے کی عوام میں بڑھتی ہوئی مقبولیت حکومت کو پریشان کر رہی ہے اور رائے عامہ ہموار کرنے کی سول سوسائٹی کی طاقت سے ڈری ہوئی حزب اختلاف کی جماعتیں حکومت مخالف ہوا دیکھ کر انا کی حمایت کر رہی ہیں۔

حکومت بد عنوانی کے خلاف تحریک سے نمٹنے میں دو بار مات کھا چکی ہے۔ چار روز قبل خود انا سے نمٹنے میں اسے زبردست پسپائی کا سامنا کرنا پڑا۔ بزرگ رہنما کوگرفتار کرنے کے چند ہی گھنٹوں میں حکومت کو اپنی نہیں انا کی شرطوں پر رہا کرنا پڑا ۔

اناکی تحریک اگر منموہن سنگھ کے گلے کی ہڈی بن گئی ہے تو اس کے لیے حکومت خود ذمے دار ہے۔ پچھلے ایک برس سے بدعنوانی کے تاریخی نوعیت کے ایک کے بعد ایک کئی معاملات سامنے آئے۔ حکومت پہلے تو ان تمام الزامات سے انکار کرتی رہی لیکن میڈیا ، حزب اختلاف اور سول سوسائٹی کی زبر دست کوششوں کے بعد اس وقت ایک مرکزی وزیر اور دو اہم ارکان پارلیمان جیل میں ہیں۔

وزیر اعظم منموہن سنگھ کی بے عملی سے عوام میں یہ تاثر پیدا ہو ا ہے کہ حکومت نہ صرف یہ کہ کوئی قدم نہیں اٹھا رہی ہے بلکہ وہ بد عنوانی کا دفاع کر رہی ہے ۔ ایک کمزور لوک پال بل پیش کر کے اور انا کو جیل میں ڈال کر وزیر اعطم سنگھ نے حکومت کے لیے مزید پیچیدگیاں پیدا کر دی ہیں ۔

اس میں کو ئی دو رائے نہیں کہ ایک پارلیمانی جمہوریت میں معاشرے کا کوئی بھی طبقہ اپنا تیار کیا ہوا کوئی مخصوص قانون بنانے کے لیے پارلیمنٹ کو مجبور نہین کر سکتا لیکن کسی قانون کے لیے وہ رائے عامہ ہموار کرنے کا حق ضرور رکھتا ہے۔ لیکن موجودہ صورتحال خود بھارت کے سیاسی رہنماؤں نے پیدا کی ہے۔ پچھلے پینتالیس برس سے لوک پال بل التوا میں تھا ۔ انا نے عوامی طاقت سے ایک مہینے کے اندر اسے پارلیمنٹ میں پیش کرنے کے لیے سیاسی رہنماؤں کو مجبور کر دیا ۔

انا کی تحریک دلی کے رام لیلا میدان سے کیا رخ اختیار کرتی ہے اس کااندازہ آئندہ دو دنوں میں ہو جائے گا ۔ انا کی کال پر پورے ملک میں لوگ باہر نکلے ہیں۔ اگر آئندہ دنوں میں دلی اور دیگر شہرون میں بڑی تعداد میں لوگ انا کی حمایت میں باہر آتے ہیں تو بد عنوانی کی یہ لڑائی انا کے لیے نہیں وزیر اعظم منموہن سنگھ کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو گی۔

اسی بارے میں