خیبر ایجنسی: فوجی سمیت دو ہلاک

خیبر ایجنسی میں سیکورٹی اہلکار(فائل فوٹو)
Image caption سیکورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ کاروائی محدود پیمانے پر شورع کی گئی تھی

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں شدت پسندوں کے خلاف ایک کارروائی کے دوران ایک سکیورٹی فورسز کے اہلکار سمیت دو افراد ہلاک جبکہ آٹھ زخمی ہوئے ہیں۔

خیبر ایجنسی میں ایک اعلی اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا کہ تحصیل باڑہ سے کوئی چار کلومیٹر دور جنوب مغرب کی جانب علاقہ اکاخیل میں شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر سکیورٹی فورسز نے کارروائی کی ہے جس میں سکیورٹی فورسز کے علاوہ امن لشکر کے رضاکاروں نے بھی حصہ لیا۔

انہوں نے بتایا کہ کاروائی کی دوران مُسلح شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز پر حملہ کیا ہے جس میں اہلکار ہلاک جبکہ اٹھ زخمی ہوئے ہیں۔

اہلکار کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک سکاؤٹس فورس کے اہلکار اور ایک امن لشکر کے رضاکار شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں پانچ سکیورٹی فورسز کے اہلکار اور تین امن لشکر کے رضاکار شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اکاخیل کے علاقے میں تحریک طالبان پاکستان اور لشکر اسلام کے سینکڑوں شدت پسند موجود ہے جن کے خلاف سکیورٹی فورسز نے سنیچر کی صُبح سے کارروائی شروع کی ہے البتہ ابھی تک کسی شدت پسند کے ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ کارروائی محدود پیمانے پر شروع کی گئی تھی جس میں گن شپ ہیلی کاپٹر یا توپخانے کا استعمال نہیں کیاگیا ہے، تاہم شدت پسندوں سے کئی گھنٹوں تک جھڑپیں ہوئی ہے۔

یادرہے کہ اس کارروائی سے ایک دن پہلے ایک دوسرے تحصیل جمرود میں ایک مسجد میں خودکُش دھماکہ ہوا تھا جس کے نتیجہ میں اکیاون افراد ہلاک جبکہ ایک سو سولہ زخمی ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں