’صرف لوک پال مسئلہ کا حل نہیں ہے‘

منموہن سنگھ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption منموہن سنگھ نے کہا کہ بدعنوانی کا مسئلہ پیچیدہ مسئلہ ہے

بھارت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ ملک کے نظام کو صاف و شفاف بنانے کے لیے حکومت کے نظام اور طریقہء کار میں جامع تبدیلیاں لانےکی ضرورت ہے اور صرف لوک پال بل مسئلہ کا حل نہیں ہے۔

کولکتہ میں انڈین انسی ٹیوٹ آف مینیجمنٹ کے ادارے کی گولڈن جوبلی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے منموہن سنگھ نے کہا کہ کرپشن نہ صرف معاشرے کی اخلاقی طاقت کو کمزور کرتی ہے بلکہ یہ نا اہلی اور کام چوری کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ کھلی معیشت کے اخلاقی جواز کو بھی کمزور کر رہی ہے۔

وزیر ا‏عظم منموہن سنگھ نے یہ بات ایک ایسے وقت میں کہی ہے جب سماجی کارکن انا ہزارے کی قیادت میں ملک بھر میں کرپشن کے خلاف احتجاج ہو رہا ہے۔

انا ہزارے گزشتہ سات دن سے بھوک ہڑتال پر ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت سرکاری حلقوں میں بدعنوانی کے خلاف سخت لوک پال بل پاس کرے۔

انا ہزارے دلی کے رام لیلا میدان میں بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں جہاں ہزاروں افراد ان کی حمایت میں جمع ہیں اور حکومت سے مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ ان کے مطالبات مانے اور جلد ہی لوک پال بل کو منظور کرے۔

منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ ایک عرصے سے لوک پال ادارے کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی اور حکومت نے ایک بل پارلیمنٹ میں پیش کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اننا ہزارے گزشتہ سات دن سے بھوک ہڑتال پر ہیں

ان کے مطابق ’اس کے کئی پہلوؤں کے بارے میں اختلاف ہے اور متعلقہ افراد اپنی رائے اور مشورے ارکان پارلیمان یا قائمہ کمیٹی کو دے سکتے ہیں ۔ حکومت ان تمام مشوروں پر کھلے ذہن سے غور کرے گی‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’لوک پال اپنے آپ میں مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ بدعنوانی کا مسئلہ پیچدہ مسئلہ اور اس کو سلجھانے کے لیے ہمارے پاس کوئی جادو کو چھڑی نہیں ہے‘۔

ادھر ایک نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے انا ہزارے نے کہا ہے کہ وہ عدلیہ کو لوک پال بل میں شامل کیے جانے کے سوال پر بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن بدعنوانی کے سوال پر وہ صرف وزیر اعظم منموہن سنگھ ، کانگریس کے جنرل سیکرٹری راہل گاندھی یا مہاراشٹر کے وزیراعلی پرتھوی راج چوہان سے بات چیت کریں گے۔

انا ہزارے اور ان کی ٹیم کا کہنا ہے کہ حکومت کہہ رہی ہے کہ وہ لوک پل بل پر بات چیت کے لیے تیار ہے لیکن ابھی تک ’حکومت کے کسی بھی نمائندے‘ نے ان سے بات نہیں کی ہے۔ حکومت کا موقوف ہے کہ انا ہزارے کے لوک پال بل میں بعض ضوابط ہیں جن پر حکومت عمل نہیں کرسکتی ہے۔

منموہن سنگھ نے اپنے اس موقف کا اعادہ کیا کہ بدعنوانی کے خاتمے کے لیے کوئی ایک واحد حل نہیں ہے جس کے استعمال سے اسے یکلخت روکا جا سکے ۔’ایک ادارے کے طور پر لوک پال کے قیام سے بلا شبہ بد عنوانی پر قابو پانے میں مدد ملے گی لیکن اس سے بد عنوانی کا مسئلہ حل نہیں ہو گا ۔ اس عمل میں مدد کے لیے عدلیہ کے نظام انصاف کو بھی تیز رفتار بنانا ہو گا‘۔

وزیر اعظم نے کہا کہ تیز رفتار سماعت اور بر وقت فیصلوں سے عوام کا اعتماد بحال کرنے میں مدد ملے گی ۔’ان اصلاحات سے لوگوں کے ذہنوں سے یہ تاثر ختم کرنے میں مدد ملے گی کہ قانوں کی خلاف ورزیاں کرنے والے قانون کی گرفت سے بچ سکتے ہیں‘۔

مسٹر سنگھ نے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے انتخابات اور سیاسی جماعتوں کی فنڈنگ کے نظام میں بھی اصلاح کرنے کی بات کی اور یہ اعتراف کیا کہ موجودہ طریقۂ کار کالے دھن کو فروغ دیتا ہے ۔

اس دوران دلی کے رام لیلا میدان میں انا ہزارے کی بھوک ہڑتال ساتویں دن بھی جاری ہے۔ پیر کو بھی وہاں ہزاروں لوگ جمع ہیں ۔ انا کی اپیل پر آج ان کے حامیوں نے دلی میں مرکزی وزیر کپل سبل اور دلی کی وزیراعلی شیلا دکشت کی رہائش گاہ کے باہرمظاہرے کیے ۔ ملک کے دیگر شہروں سے بھی ارکان پارلیمان کی رہائش گاہوں کے باہر مظاہرے اور احتجاج کی خبریں ملی ہیں ۔

بدعنوانی کے سوال پر حکومت اور انا ہزارے کے درمیان تعطل برقرار ہے۔ حکومت انا کے ساتھیوں سے بات چیت کے راستے تلاش کر رہی ہے ۔ اطلاعات ہیں کہ حکومت نے بالواسطہ طور پرکچھ تجاویز بھی رکھی ہیں ۔ لیکن انا اور ان کے ساتھیوں نے کہا ہے کہ وہ لوک پال بل کے سوال پر اپنے مطالبے پر اٹل ہیں۔

اسی بارے میں