حکومت اور اپوزیشن میں اختلاف برقرار

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption طبی ماہرین کا خیال ہے کہ انا ہزارے کی صحت جلدی ہی بگڑنا شروع ہوسکتی ہے

بھارت میں بدعنوانی کے خلاف سماجی کارکن انا ہزارے کی تحریک سے پیدا شدہ بحران پر حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان کوئی مفاہمت نہیں ہوسکی ہے لیکن سبھی سیاسی جماعتوں نے انا ہزارے سے اپنی بھوک ہڑتال فوراً ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔

انا ہزارے کی بھوک ہڑتال نو دن سے جاری ہے۔ سول سوسائٹی کے نمائندوں کا مطالبہ ہےکہ حکومت بدعنوانی کے خاتمے کے لیے ان کا تجویز کردہ جن لوک پال بل پارلیمان میں پیش کرے اور اس سلسلے میں حکومت نے بدھ کی شام ایک کل جماعتی اجلاس طلب کیا تھا۔

دلی میں ہمارے نامہ نگار سہیل حلیم کے مطابق اجلاس میں ملک کے سرکردہ سیاسی رہنماؤں نے شرکت کی لیکن لوک پال بل پر کوئی اتفاق نہیں ہوسکا۔ حکومت کی کوشش یہ تھی کہ تمام سیاسی جماعتیں اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے ایک ہی پلیٹ فارم پر آجائیں۔

اجلاس کے بعد بی جے پی کی رہنما سشما سواراج نے کہا کہ حکومت کو ’اپنا کمزور لوک پال بل واپس لے لینا چاہیے اور جن لوک پال بل کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک نیا سخت بل تیار کرنا چاہیے۔ یہ ہنگامی صورتحال ہے، مسئلے کو حل کرنے کے لیے ضابطوں میں نرمی کی جاسکتی ہے۔‘

حکومت کی جانب سے وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے کہا کہ اجلاس میں عام رائے یہ تھی کہ جن لوک پال بل کی روشنی میں ایک نیا بل تیار کیا جائے۔ حکومت بل واپس لینےکے حق میں نہیں ہے اور پہلے ہی یہ پیش کش کر چکی ہےکہ جن لوک پال بل اس مجلس قائمہ کے سامنے بھیجا جاسکتا ہے جو پہلے سے سرکاری بل کا جائزہ لے رہی ہے۔ اس کا کہنا ہےکہ مجسل قائمہ کو وہ تمام ترامیم کرنے کا اختیار حاصل ہے جن کا انا ہزارے اور ان کے ساتھی مطالبہ کر رہے ہیں۔

حکومت اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے درمیان کم سے کم دو دور کی بات چیت ہوچکی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ رات دیر پھر بات چیت ہونی ہے۔ سول سوسائٹی کے رہنماؤں کا دعوی ہے کہ بات صرف تین نکات پر اٹکی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت وزیر اعظم کو بل کے دائرے میں شامل کرنے پر تیار ہے۔ اصل اختلاف تمام سرکاری ملازمین کو لوک پال کے دائرے میں لانے اور ان کی جواب دہی طے کرنے کے سوال پرہے۔

انا ہزارے کی بھوک ہڑتال کا آج نواں دن ہے لیکن ان کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ ان کی صحت کل کےمقابلے میں آج کچھ بہتر ہے۔ انا ہزارے نے بدھ کی شام رام لیلا میدان میں اپنے مداحوں سے خطاب کیا، اور حسب معمول حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ’ ان غداروں نے ان قربانیوں کو بھلا دیا ہے جن سے ملک آزادہ ہوا تھا۔۔۔مجھے بھوک ہڑتال کرتے ہوئے نو دن ہوگئے ہیں اور ابھی مزید نو دن مجھے کچھ نہیں ہوگا۔‘

بہر حال، حکومت کی مشکلات بڑھتی جارہی ہیں اور اس کے پاس وقت کم ہے کیونکہ طبی ماہرین کا خیال ہے کہ انا ہزارے کی صحت جلدی ہی بگڑنا شروع ہوسکتی ہے۔ انا ہزارے کے ساتھیوں کو اس کا احساس ہے اور وہ حکومت پر مسلسل دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ حکومت اس وقت گھری ہوئی ہے اور اس محاذ آرائی کو ختم کرنے کے لیے اس جلدی ہی کوئی فیصلہ کرنا پڑے گا۔

اسی بارے میں