رام لیلا میدان میں انا کا باورچی خانہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یہاں دال، چاول سے لے کر پوری، سبزی سب مل رہی ہے

بدعنوانی کے خلاف تحریک کے سلسلے میں رام ليلا میدان میں انا ہزارے کی بھوک ہڑتال جاری ہے اور وہاں یوں تو لوگوں کا سیلاب ہے لیکن دو خاص مقامات پر سب سے زیادہ بھیڑ ہے۔

ایک تو میدان میں بنایا گیا ’انا کا باورچی خانہ‘ اور دوسرا وہ کاؤنٹر جہاں انا کی ٹوپياں اور ٹی شرٹ فروخت ہو رہی ہیں۔

خوب فروخت ہورہی ہے انا والی ٹوپی: تصاویر

بی بی سی ہندی کی وندنا رام لیلا میدان گئیں اور بتایا کہ رام ليلا میدان میں انا کے حامی دلی سے ہی نہیں بلکہ دلی کے باہر سے بھی آئے ہیں۔ کچھ لوگوں نے تو پچھلے کئی دنوں سے یہاں ڈیرہ ڈالا ہوا ہے۔

لوگوں کے لیے میدان میں جگہ جگہ لگے ہیں ’انا کے باورچی خانے‘ کئی چھوٹے بڑے گروپ اپنی اپنی سطح پر لوگوں کی بھوک مٹانے کے لئے کھانا پکا رہے ہیں۔ یہاں دال، چاول سے لے کر پوری، سبزی سب مل رہی ہے۔

بعض نے تو ایک دو افراد کے گروپ کی طرف سے کھانا بنانے کا کام شروع کیا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے اور لوگ ان سے ملتے گئے یعنی لوگ آتے رہے اور کارواں بنتا گیا۔ ویلکم کے نام سے ایک گروپ ہے جس کے سربراہ بتاتے ہیں کہ وہ گزشتہ کئی دنوں سے لوگوں کو کھانا کھلانے کا کام کر رہے ہیں۔

کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ان کاؤنٹرز کے سامنے اچھی خاصی قطاریں لگی رہتی ہیں۔ تھکے ہارے لوگ یہاں کھانا کھا کر توانائی محسوس کرتے ہیں تاکہ پھر سے انا کے سنگ جٹ جائیں۔

جو لوگ باورچی خانے کا انتظام نہیں کر سکتے وہ دیگر طریقوں سے مدد کر رہے ہیں۔ ایک صاحب اپنی بڑی سے گاڑی لے کر گیٹ کے باہر آئے، گاڑی میں کیلے ہی کیلے بھرے تھے. آتے جاتے تمام لوگوں کو وہ کیلے بانٹتے رہے۔

پیاس لگی ہو تو پانی کی تھیلیاں بانٹتے لوگ بھی نظر آئیں گے۔

بچے بوڑھے سب ان کاموں میں ہاتھ بٹا رہے ہیں، کوئی چاول کی بوری دے جاتا ہے ، کوئی آٹے کی تو کئی تیل اورگھی کی، بس ہدایت یہ ہے کہ انا کے باورچی خانے کا ذائقہ ضرور چكھیے لیکن جتنی ضرورت ہے اتنا ہی کھانا لیں۔

اسی بارے میں