پارلیمان کی انّا سے ہڑتال ختم کرنےکی اپیل

انّا ہزارے تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption انّا ہزارے کی بھوک ہڑتال دسویں روز بھی جاری ہے

بھارت میں بدعنوانی کے خلاف سول سوسائٹی کی تحریک سے پیدا شدہ بحران کو ختم کرنے کی کوشش میں حکومت نے سماجی کارکن انا ہزارے اور ان کے ساتھیوں کے تجویزکردہ بل پر پارلیمان میں بحث کی پیش کش کی ہے۔

بدعنوانی کے مسئلہ پر لوک سبھا میں بیان دیتے ہوئے وزیر اعظم من موہن سنگھ نے کہا کہ انا ہزارے کے ساتھیوں کا تیارکردہ جن لوک پال بل کے ساتھ ساتھ دوسری تنظیموں اور اداروں کی تجاویز پر پارلیمان میں بحث ہوسکتی ہے اور اراکین کی رائے بل کو حتمی شکل دینے کے لیے مجلس قائمہ کو بھیجی جاسکتی ہے۔

من موہن سنگھ نے کہا ’میرے خیال میں اس طریقہ سے یہ بحران ختم کیا جاسکتا ہے کیونکہ انا ہزارے کی ٹیم کا یہ مطالبہ ہے کہ ان کے بل پر پارلیمان میں بحث ہونی چاہیے۔‘

سماجی کارکن انا ہزارے دس دن سے دلی کے رام لیلا میدان میں بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت اکتیس اگست تک جن لوک پال بل پارلمیان میں منظور کرائے۔

لیکن حکومت اور دیگر سیاسی جماعتیں پوری طرح سے اس بل کے حق میں نہیں ہیں۔ حکومت اور سول سوسائٹی کےنمائندوں کےدرمیان بات چیت کے تین دور ہوچکے ہیں لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

سول سوسائٹی کے نمائندے اب یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ بات چیت جاری رکھنےسے قبل حکومت انہیں اپنا مؤقف تحریری طور پر فراہم کرے۔ حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے انہوں نے جمعرات کی شام پانچ بجے اپنے ساتھیوں سے وزیرا عظم کی رہائش گاہ پر جمع ہونے اور مسئلہ کےحل نہ ہونے کی صورت میں سنیچر سے دلی پہنچنے کی اپیل کی ہے۔

وزیر اعظم نےاپنی تقریر میں یہ اپیل بھی دہرائی کہ انا ہزارے اپنی بھوک ہڑتال ختم کردیں کیونکہ ان کی تحریک کی وجہ سے ملک میں بدعنوانی پر بحث شروع ہوگئی ہے۔ ان کی اس اپیل کی حزب اختلاف کی جماعتوں نے بھی حمایت کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption منموہن سنگھ نے اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کیا ہے

’ہم اس ایوان کے ساتھ ملکر ایک مضبوط اور مؤثر لوک پال بل بنانے کا وعدہ کرتے ہیں جس پر قومی سطح پر اتفاق رائے ہو۔ ہم کھلے ذہن سے کام کریں گے ۔۔۔ لیکن ساتھ ہی ہمیں پارلیمان کی بالادستی کا بھی تحفظ کرنا ہے۔‘

انا ہزارے اور ان کے ساتھی یہ مطالبہ بھی کر رہے ہیں کہ حکومت اپنا بل واپس لے، جو ان کے بقول بہت کمزور ہے، اور جن لوک پال بل مجلس قائمہ کے پاس بھیجے بغیر ہی منظور کر دیا جائے۔ لیکن تمام سیاسی حلقوں نے پارلیمانی کام میں کسی بھی قسم کی مداخلت کی مخالفت کی ہے۔

انا ہزارے کے بارے میں وزیر اعظم نے کہا کہ وہ ان کا احترام کرتے ہیں اور یہ کہ انا ہزارے بدعنوانی کے خلاف لوگوں کے غصے کی علامت بن گئے ہیں۔

انا ہزارے کی ٹیم کا مطالبہ ہے کہ وزیر اعظم کے عہدے کو بھی جن لوک پال بل کے دائرے میں لایا جائے جس کے لیے حکومت بظاہر تیار ہوگئی تھی۔ لیکن اصل اختلاف تمام سرکاری ملازمین کو اس کے دائرے میں لانے اور ان کی جواب دہی طے کرنے کے سوال پر ہے۔

بدھ کو لوک سبھا میں تقریر کرتے ہوئے بی جے پی کے ایک سینئر لیڈر مرلی منوہر جوشی نے وزیر اعظم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

جواب میں من موہن سنگھ نے کہا کہ اس الزام سے’ انہیں بہت تکلیف پہنچی ہے اور حزب اختلاف کی رہنماء سشما سواراج خود اس بات کی تفتیش کر سکتی ہیں کہ آیا انہوں نے کبھی اپنے عہدے کا فائدہ اٹھایا ہے یا نہیں۔ اور میں ان کا فیصلہ قبول کروں گا۔‘

لوک سبھا میں حزب اختلاف کی رہنماء شسما سواراج نے بھی انا ہزارے سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی جس کے بعد سپیکر میرا کمار نے کھڑے ہو کر اجتماعی ایوان کی طرف سے انا ہزارے سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی۔

ابھی اناّ کی ٹیم کی طرف سے اس پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا گيا ہے اور سب ہی اس بات کے منتظر ہیں کہ آیا ان کا کیا مؤقف ہوگا۔

اسی بارے میں