حکومت اور ٹیم انّا میں پھر سے مذاکرات

انّا ہزارے تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دس روز کی بھوک ہڑتال کے سبب انّا ہزارے کا چھ کلو وزن کم ہوچکا ہے

بھارت میں بدعنوانی کے خلاف سماجی کارکن انا ہزارے کی بھوک ہڑتال ختم ہونے کےامکان روشن ہوئے ہیں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے تازہ ترین مطالبات کو وزیر قانون سلمان خورشید نے ’مثبت پیش رفت‘ قرار دیا ہے۔

وزیراعظم منموہن سنگھ کی اپیل کے بعد انا ہزارے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر ان کی بنیادی مطالبات تسلیم کر لیے جاتے ہیں تو وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے پر غور کرسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر جمعہ کے روز پارلیمان میں ان کے تین اہم مطالبات پر بحث شروع کرنے کا وعدہ کیا جائے تو وہ بھوک ہڑتال ختم کرنے کو تیار ہیں لیکن ان کا احتجاج بل کی منظوری تک جاری رہیگا۔

انہوں نے اپنے مطالبات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت ریاستوں میں بدعنوانی کی روک تھام کے لیے حکومت کے کنٹرول سے آزاد نگرانوں کی تقرری، تمام سرکاری ملازمین کو لوک پال بل کے دائرے میں لانے اور سرکاری ملازمین کی جواب دہی کا نظام وضع کرنے پر پارلیمان میں بحث کرنے کا تحریری وعدہ کرے تو بھوک ہڑتال ختم کرنے پر غور کرسکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption رام لیلا گراؤنڈ پر عوام کا ازدہام جاری ہے

اس سے قبل ابتدائی رد عمل میں سلمان خورشید نے کہا کہ انّا کی ٹیم کی طرف سے یہ مثبت پیش رفت ہے اور انہیں یہ مطالبات تسلیم کیے جانے کی راہ میں کوئی عملی دشواری نظر نہیں آتی لیکن اس بارے میں فیصلہ حکومت کی اعلی ترین قیادت ہی کرے گی۔ اس سلسلے میں آج شام وزیر اعظم اپنی کابینہ کے سینئر وزرا سے صلاح مشورہ کرنے والے ہیں۔

ابھی صورتحال پوری طرح سے واضح نہیں ہے لیکن انا ہزارے کیمپ میں اب بظاہر یہ احساس ہے کہ حکومت جس حد تک جاسکتی تھی، جا چکی ہے۔ اس سے پہلے وزیر اعظم نے انا ہزارے اور ان کے ساتھیوں کے تجویزکردہ بل پر پارلیمان میں بحث کی پیش کش کی تھی۔

انا ہزارے کی درخواست پر مہارشٹر کے سابق وزیر اعلی اور وفاقی وزیر ولاس راؤ دیش نے آج انا ہزارے سے براہ راست بات چیت کی۔ انا ہزارے کا تعلق بھی مہاراشٹر سے ہی ہے۔ اب ولاس راؤ دیش مکھ پیغامبر کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ولاس راؤ سے ملاقات کے بعد انّا ہزارے نے رام لیلاگراؤنڈ پر جمع اپنے حامیوں سے خطاب میں کہا کہ ان کے ساتھی حکومت سے بات چیت میں مصرف ہیں اور اب دیکھنا ہے یہ ہے کہ حکومت نے جو کہا ہے اس پر وہ عملی طور پر کیا کرتی ہے۔

اسی بارے میں