اجتماعی قبریں، آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ

کشمیر تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption گزشتہ دو دہائیوں میں کشمیر میں ہزاروں نوجوان لاپتہ ہوئے ہیں

حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں اجتماعی قبروں کی تصدیق کرنے والی ریاست انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ پر آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں حکومت کے حقوق انسانی کمیشن نے چند روز قبل اعتراف کیا تھا کہ وادی میں اڑتیس مقامات پر دو ہزار ایک سو چھپن افراد اجتماعی قبروں میں دفن ہیں۔

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں گزشتہ اکیس سال کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ انسانی حقوق کے سرکاری کمیشن نے وادی میں اجتماعی قبروں کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے اور کہا ہے کہ ان میں دو ہزار سے زائد افراد کو دفن کیا گیا ہے۔

گزشتہ دو دہائیوں میں بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں ہزاروں لوگ غائب ہوئے ہیں اور ان کے اہلخانہ یہ مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ انہیں تلاش کیا جائے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا الزام ہے کہ یہ ان عام شہریوں کی قبریں ہیں جنہیں بھارتی سکیورٹی فورسز نے علیحدگی پسندوں کے خلاف اپنی مہم کے دوران اغوا کر کے موت کے گھاٹ اتارا تھا۔

سنہ دو ہزار سے دو ہزار آٹھ کے دوران انسانی حقوق کے لیے سرگرم کشمیر کے مقامی اداروں نے ایک جائزہ رپورٹ جاری کی تھی جس میں بتایا گیا کہ شمالی کشمیر میں ایسی درجنوں اجتماعی قبریں ہیں جن میں دو ہزار آٹھ سو افراد کو دفن کیا گیا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ بھارتی حکام کو اس معاملے کی آزادانہ ، منصفانہ اور قابل اعتبار تحقیقات کرنی چاہئے.

تنظیم کی جنوبی ایشیائی خطے کی ڈائریکٹر میناکشی گنگولی نے کہا ہے کہ ’کئی سالوں سے کشمیری باشندے اپنے اہل خانہ کے غائب ہونے کا غم منا رہے ہیں اور ان کی کوئی سنوائی نہیں ہوئی ہے۔ حکومت اور فوج کا دعوٰی تھا کہ غائب شدہ لوگ شدت پسند سرگرمیوں میں حصہ لینے پاکستان گئے ہیں لیکن ان قبروں سے پتہ لگتا ہے کہ لوگوں کا اجتماعی قتل کیا گیا ہے۔ حکام کو جلد سے جلد ہر موت کی تحقیقات کرنی چاہیے‘۔

Image caption تسلیم کے خاوند کو فرضی جھڑپ میں مار دیا گیا تھا

سنہ 2003 میں بھارت کے زیرِانتظام کشمیر کے سابق وزیرِاعلٰی مفتی محمد سعید نے کہا تھا کہ ریاست سے تین ہزار سات سو چوہتر افراد غائب ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سنہ 1990 سے جو لوگ غائب ہوئے ہیں ، ان میں سے کئی پاکستان میں موجود تھے ، جہاں وہ شدت پسندوں کی سرگرمیوں میں شامل ہو گئے۔

ہیومن رائٹس واچ سمیت کئی دوسرے انسانی حقوق گروپ اس معاملے میں کئی بار آزادانہ تفتیش کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ اس سے پہلے ہیومن رائٹس واچ نے یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ مسلح افواج خاص حقوق ایکٹ کو بھی ریاست سے ہٹایا جائےۓ

اس ایکٹ کے تحت فوج کو حق ہے کہ وہ بغیر کسی وارنٹ کے لوگوں کو گرفتار کر سکتی ہے یا گولی بھی مار سکتی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ ’افسپا‘ جیسا قانون انسانی حقوق کے خلاف ہے اور اس کا غلط استعمال کیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں