مولانا شوکت کا قتل:’شدت پسند ہی ملوث‘

مولانا شوکت تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مولانہ شوکت سرینگر میں ہوئے ایک بم دھماکے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں سرگرم لشکر طیبہ سے منسوب ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چار ماہ قبل معروف عالم دین مولانا شوکت شاہ کے قتل کا منصوبہ پاکستان میں مقیم مسلح گروپ تحریک المجاہدین کے لئے کام کرنے والے بعض شدت پسندوں نے بنایا تھا، اور ان میں سے ایک بنیادی ملزم کے بھارتی فوج کے ساتھ بھی روابط تھے۔

اکیس سالہ مسلح شورش کے دوران یہ پہلا موقعہ ہے کہ کسی مسلح گروپ نے قتل کے ایک معاملے میں تحقیقات کرکے مسلح گروپوں سے وابستہ افراد کو ہی مورد الزام ٹھہرایا ہو۔

غیرسرکاری سطح پر مولانا کے قتل کی تفتیش کرنے والی علیٰحدگی پسندوں اور مذہبی جماعتوں کی ’کل جماعتی تحقیقاتی کمیٹی‘ نے جمعرات کو لشکر طیبہ سے منسوب ایک رپورٹ جاری کردی جس میں اس قتل کی سازش سے متعلق پوری تفصیل اور کشمیر میں سرگرم لشکر کمانڈر عبداللہ یونی کی طرف سے وضاحتی بیان شامل ہے۔

سرینگر: مولانا شوکت دھماکے میں ہلاک

مولانا شوکت قتل، سرینگر میں تین گرفتار

واضح رہے پولیس کی فرد جرم میں جن آٹھ افراد کو بنیادی ملزم قرار دیا گیا ہے ان میں عبداللہ یونی بھی شامل ہے۔ اس رپورٹ میں واضح عندیہ دیا گیا ہے کہ پاکستانی زیرِانتظام کشمیر میں مقیم تحریک المجاہدین کے ساتھ وابستہ ابو عمیر اور سرینگر کے رہنے والے جاوید منشی عرف بل پاپا اور نثار احمد (یہ دونوں فی الوقت پولیس حراست میں ہیں) نے مولانا شوکت کے قتل کا منصوبہ بنایا تھا۔

رپورٹ میں عمیر، نثار اور جاوید منشی کے لشکر کے تعلقات کا اعتراف کیا گیا ہے لیکن کشمیر میں سرگرم ڈویژنل کمانڈر عبداللہ یونی کے بیان کو نقل کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جاوید منشی نے ان کے سامنے مولانا کو قتل کرنے کی خواہش ظاہر کی تو انہوں نے 'سختی سے روکا کہ یہ درست نہیں ہے۔'

واضح رہے پولیس نے دعویٰ کیاتھا کہ لشکر طیبہ کے عبداللہ یونی نے ہی جاوید منشی کو مولانا کے قتل کی خاطر بارود مہیا کیا تھا تاہم لشکر کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عبداللہ یونی نے پچھلے سال کچھ بارود جاوید کو مسلح کاروائی کے لئے دیا تھا لیکن اس نے بہانہ کرکے بتایا تھا کہ وہ ضائع ہوگیا ۔

رپورٹ میں جاوید پر بھارتی فوج کے لئے مخبری کرنے کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔

لشکر طیبہ سے منسوب اس رپورٹ میں تنظیم نے مولانا شوکت کے قتل میں براہ راست ملوث ہونے کا اعتراف نہیں کیا ہے، لیکن دوسرے شدت پسندوں کو اس میں ملوث قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے ابتدائی اقتباس میں لکھا ہے: 'ہمارا ابتدائی خیال تھا کہ بھارتی فوج اور اداروں نے تحریک کو کمزور کرنے اور آپس میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کے لئے مولانا (شوکت شاہ) کو شہید کیا ہے۔ ہمارے گمان میں بھی یہ نہ تھا کہ قاتل ہمارے ہی لوگ نکل آئینگے۔' رپورٹ کے مطابق یہ نتیجہ اُسوقت اخذ کیا گیا جب گزشتہ ماہ معد عمران عرف ابوقتال فدائی سرینگر کی جیل سے رہا ہوکر پاکستان چلاگیا اور وہاں اس نے جاوید منشی کے ساتھ جیل میں ہوئی ملاقات کی تفصیل بتائی۔

قابل ذکر ہے کل جماعتی تحقیقاتی کمیٹی میں سید علی گیلانی اور میرواعظ عمرفاروق کی سربراہی والے حریت کانفرنس کے دونوں دھڑے، محمد یٰسین ملک کی لبریشن فرنٹ، جمعیت اہلحدیث اور جماعت اسلامی سمیت متعدد علیٰحدگی پسند اور مذہبی گروپ شامل ہیں۔ کمیٹی نے چند ماہ قبل قاتل کو ’دونوں طرف ڈھونڈنے‘ کی کوششوں کا آغاز کیا۔

کمیٹی نے بعد میں اعلان کیا کہ وہ پاکستان اور پاکستان میں مقیم مسلح تنظیموں کا تعاون بھی طلب کرینگے۔ کمیٹی کے سینئیر رکن اور لبریشن فرنٹ کے رہنما محمدیٰسین ملک نے بی بی سی کو بتایا: ’لشکر طیبہ نے تو پہل کی ہے۔ تحرک المجاہدین بھی ایک رپورٹ پیش کرے گی اسے بھی ہم عوام کے سامنے رکھیں گے۔‘

اسی بارے میں