بھارت میں کنڈوم کی ’ہوم ڈیلیوری‘

Image caption بھارت کی آبادی ایک ارب اکیس کروڑ ہے

بھارتی حکومت نے ملک کے دیہی علاقوں میں خاندانی منصوبہ بندی کی مقبولیت کے لیے لوگوں کے گھروں تک كنڈومز کی فراہمی کا منصوبہ بنایا ہے۔

اس کام کے لیے حکومت نے انہیں علاقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کو تربیت دی ہے جنہیں امید کے نام سے جانا جاتا ہے۔

ابتداء میں یہ منصوبہ کچھ اضلاع میں شروع کیا جائے گا۔

ایسے ہی ایک علاقے میں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم فیملي پلاننگ ایسوسی ایشن آف انڈیا کے جنرل سیکرٹری وشوناتھ كولواڈ کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ کافی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

بی بی سی کی وندنا کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ ’اگر گاؤں والوں کو گھر پر كنڈوم مل جائیں تو یہ بہت اچھا ہوگا کیونکہ ایک تو انہیں بازار جا کر کنڈوم خریدنا نہیں پڑے گا اور دوسرا یہ کہ انہیں یہ کنڈوم ایسی خواتین لا کر دیں گی جنہیں وہ جانتے ہیں۔یہ کارکن پوری طرح تربیت یافتہ ہوں گی اور اس سے گاؤں والوں کی جھجھک میں کمی ہوگی‘۔

مغربی بنگال کے جلپاگڑي ضلع میں دوردراز کے دیہات میں یہ کام پہلے سے ہی غیر سرکاری سطح پر جاری ہے۔ اس مہم سے تعلق رکھنے والے کلوت کا کہنا ہے کہ کارکنوں کو گاؤں میں تعلیم کی کمی اور خاندانی منصوبہ بندی پر عمل کرنے میں فطری جھجھک جیسے کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

كلوت کہتے ہیں، ’گاؤں میں لوگ زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہوتے اور وہاں معاشرہ بھی مردوں کا ہے جس میں خواتین کو کچھ کردار ادا کرنے نہیں دیا جاتا‘۔

’ہمیں مردوں کو سمجھانا پڑتا ہے کہ فیملی پلاننگ کیا ہوتی ہے، اس کے کیا فائدے ہو سکتے ہیں، کیوں خاندانی منصوبہ بندی ضروری ہے۔ ہم خود جا کر انہیں سمجھاتے ہیں جس کے بعد بہت سے لوگ یہ طریقے اپنا رہے ہیں‘۔

اس وقت بھارت کی آبادی ایک ارب اکیس کروڑ ہے اور وہ آبادی کے لحاظ سے چین کے بعد دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ہی بھارت میں ماؤں اور بچوں میں موت کی شرح بھی کافی زیادہ ہے۔

صحت مند اور خوشحال بھارت کے لیے بھارتی حکومت نے ترقی کے اہداف مقرر کیے ہوئے ہیں. لیکن آبادی میں اضافے کی شرح میں توازن اور نومولود اور ماں کی صحت کا خیال رکھے بغیر صحت مند اور خوشحال بھارت کا تصور ادھورا ہی رہے گا۔

اسی بارے میں