آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 27 اگست 2011 ,‭ 15:28 GMT 20:28 PST

کشن گنگاپراجیکٹ : کشمیری ناراض

فائل فوٹو

دریائے چناب پر بجلی کے پروجیکٹس پر پاکستان کو اعتراض ہے

بھارتی کے زیرانتظام کشمیر میں تعمیر ہورہے کشن گنگا پن بجلی پروجیکٹ کیخلاف علیٰحدگی پسند اور ہندنواز اپوزیشن نے عوامی مزاحمت کا اعلان کیا ہے

ایک ایسے وقت جب ہیگ میں واقع ثالثی کی عالمی عدالت میں بھارت اور پاکستان کے درمیان نزاع کا باعث بنے کشن گنگا پن بجلی پروجیکٹ کیس کی سماعت ہو رہی ہے، بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں علیٰحدگی پسندوں اور بعض ہندنواز گروپوں نے اس پروجیکٹ سے متعلق خدشات کا اظہار کیا ہے۔

علیٰحدگی پسند رہنما میرواعظ عمرفاروق نے تو اس کے خلاف عوامی مزاحمت کا اعلان کیا ہے اور مقامی حکومت سے کہا ہے کہ بھارتی اداروں کے سپرد کرنے کے بجائے وہ مقامی دریاؤں پر تعمیر ہونے والے بجلی منصوبوں کے لئے عالمی بینک یا ایشین ڈیویلپمنٹ بینک سے قرضہ حاصل کریں۔

یہ پہلا موقعہ ہے کہ علیٰحدگی پسندوں نے انتظامی امور کو مسئلہ کشمیر کے تناظر میں اپنے ایجنڈے میں شامل کیا ہے۔ اپوزیشن اور علیٰحدگی پسندوں کا ردعمل عین اُسوقت سامنے آیا جب یہ انکشاف ہوا کہ پروجیکٹ کی تعمیر کے لئے این ایچ پی سی کنٹرول لائن کے قریبی خطوں گریز اور بانڈی پورہ میں چار ہزار دو سو کنال رقبہ زمین حاصل کر رہی ہے۔ اس کی وجہ سے دس ہزار سے زائد لوگ اپنے آبائی دیہات سے بے دخل ہوجائیں گے۔

میرواعظ عمرفاروق نے بی بی سی کو بتایا:’ایک طرف سے یہاں عام لوگوں پر فورسز کا تشدد جاری ہے اور دوسری ہماری اقتصادی حالت کو خراب کیا جا رہا ہے۔ حکومت ہند تو ہمارے قدرتی وسائل پر قابض ہو رہی ہے اور مقامی حکومت جو منتخب نمائندے ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، اس سب پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہوسکتا ہے مسئلہ کشمیر کے حل میں دیر ہوجائے، ہم ہمارے قدرتی وسائل کی لوٹ کا تماشا نہیں دیکھ سکتے، ہم لوگوں کو آگاہ کرکے اور اس کے خلاف مزاحمت کرینگے۔‘

میرواعظ نے حکومت ہند کو خبردار کیا ہے کہ کشن گنگا دریا پر زیر تعمیر پن بجلی پروجیکٹ کو خفیہ طور پر بھارت کی نیشنل ہائیڑرو پاور کارپوریشن یا این ایچ پی سی کے سپرد کرنے کے خلاف وادی میں احتجاجی لہر پیدا ہوسکتی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ شمال مشرقی ضلع بانڈی پورہ کے گریز خطہ میں کشن گنگا دریا پر زیر تعمیر تین سو تیس میگاواٹ صلاحیت والے پن بجلی پروجیکٹ پر پاکستان نے اعتراض کیا ہے اور اس تنازعہ کی سماعت یورپی شہر ہیگ میں واقع ثالثی کی عالمی عدالت میں ہو رہی ہے۔

پاکستان کو خدشہ ہے کہ یہ پروجیکٹ اس کے زیرانتظام کشمیر میں زیرتعمیر نیلم ۔جہلم پروجیکٹ کو متاثر کرے گا، جبکہ بھارت کا اصرار ہے کہ کشن گنگا پروجیکٹ سے پاکستانی منصوبوں پر کوئی برا اثر نہیں پڑے گا۔ عالمی عدالت کے ایک وفد نے اس سال جون میں اس پروجیکٹ کا مشاہدہ بھی کیا تھا۔

بانڈی پورہ کے ممبراسمبلی نظام الدین کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس پروجیکٹ کو غیرقانونی طور این ایچ پی سی کے سپرد کیا، جس کے بعد ہندوستان کنسٹرکشن کارپوریشن اور برطانیہ کے ہالکرو گروپ لمیٹید کی شراکت میں اس پر کام شروع کیا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے این ایچ پی سی کے ساتھ چوری چھپے جو معاہدہ کیا ہے اسے ابھی تک عوام کے سامنے نہیں لایا گیا۔

مسٹر نظام کا کہنا تھا :’کشن گنگا میں پروجیکٹ بنے گا تو نہر کا پانی جھیل ولر میں جمع ہوجائے گا، اور یہ صورتحال پورے کشمیر کے لئے خطرہ کے باعث ہوسکتی ہے۔ حکومت نے سب کچھ این ایچ پی سی کے ہاں گروی رکھا ہے لیکن لوگوں کا فائدہ اس کے مدنظر نہیں ہے۔‘

واضح رہے یہاں کے آبی وسائل کے استحصال سے متعلق کئی سال سے علیٰحدگی پسند اور بعض ہندنواز جماعتیں حکومت ہند اور مقامی انتظامیہ کو ہدف تنقید بناتی رہی ہے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔