کشمیر:سنگ بازوں کیلئےعام معافی

کشمیر فائل فوٹو
Image caption کشمیر میں گزشتہ برس عوامی احتجاج ہوا تھا جس کے بعد متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا تھا

بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں علیٰحدگی پسندوں کی طرف سے احتجاجی مہم کے اعلان کے کچھ روز بعد اتوار کو مقامی حکومت نے اعلان کیا کہ وہ گرفتار کئےگئے نوجوانوں کی رہائی اور ضمانت پر رہا کئےگئے لڑکوں کے خلاف تھانوں میں درج مقدمے واپس لےکر انہیں 'عید کا تحفہ' دینا چاہتی ہے۔

اس فیصلہ کا اعلان عمرعبداللہ نے اتوار کو ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا: ’بچوں سےغلطی ہوجاتی ہے اور اس بار محض پتھراؤ کرنے میں ملوث بچوں کی یہ غلطی ہم معاف کرینگے۔ لیکن یہ عام معافی بار بار نہیں دی جاسکتی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ تشدد بھڑکانے اور عوامی و سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے میں ملوث نوجوانوں کے لئے کوئی رعایت نہیں ہوگی۔

وزیراعلیٰ نے علیٰحدگی پسندوں پر الزام عائد کیا کہ وہ گرفتاریوں سے متعلق مبالغہ آمیز اعدادوشمار جاری کرکے لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پچھلے سولہ ماہ کے دوران کُل ایک ہزار تین سو نوجوانوں کےخلاف مقدمے درج کئے گئے جن میں سے پینتیس نوجوانوں کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت قید کیا گیا جبکہ ستّر کو عدالتی ریمانڈ کے تحت حراست میں رکھا گیا ہے۔ تاہم علیٰحدگی پسندوں کا خیال ہے کہ ایک ہزار سے زائد نوجوانوں کو گرفتار کرکےسرینگر اور جموں کی مختلف جیلوں میں قید کیا گیا ہے۔

واضح رہے وادی کے پولیس تھانوں میں ایسے نوجوانوں کے خلاف بھی مقدمے ہیں جوگرفتاری سے بچنے کے لئے روپوش ہوگئے ہیں۔ عمرعبداللہ نے ان کے والدین سے کہا:’ہم انہیں بھی معاف کرینگے، لیکن اس کےلئے اپنے آپ کو قانون کے سپرد کرنا ہوگا، اور معافی کی یہ سکیم ضمانت کے بعد ہی ان پر لاگو ہوگی۔‘

قابل ذکر ہے اُنیس اگست کو سخت گیر مؤقف رکھنے والے علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی نے اعلان کیا تھا کہ عید سے قبل تمام قیدیوں کو رہا نہ کیا گیا تو وہ عید کے بعد ہمہ گیر احتجاجی مہم شروع کرینگے۔

مسٹر گیلانی نے بی بی سی کو بتایا:’اگر یہ لوگ (حکومت) سب کو رہا کررہے ہیں، وہ تو دنیا دیکھے گی۔ ہم کہہ چکے ہیں کہ اگر عید کے روز ہمیں نماز پڑھنے سے روکا گیا اور لوگوں سے ملنے نہ دیا گیا اور نوجوانوں کو رہا نہ کیا گیا تو ہم تو بہر حال عید کے بعد اپنےپرامن پروگرام کا اعلان کرینگے۔'

دریں اثنا وزیراعلیٰ کے والد اور ان کی پارٹی نیشنل کانفرنس صدر نے بھی پچھلے ہفتے سرینگر میں تقریب کے دوران کہا: ’گیلانی کشمیر میں پھر سے آگ لگانا چاہتے ہیں۔' اس کے جواب میں مسٹر گیلانی کی سربراہی والی حریت کانفرنس نے کہا : 'حکومت ہمارے پروگرام کو اس طرح پیش کرتی ہے جیسے گیلانی توپ و تفنگ لے کر میدان جنگ میں کودے ہیں۔ ہمارا پروگرام پرامن ہوگا۔‘

لیکن وزیراعلیٰ نےسرکاری اعدادوشمار کی بنیاد پر کہا کہ جب بھی علیٰحدگی پسندوں کی احتجاجی ریلیاں منعقد ہوتی ہیں تو اس میں تشدد بھی ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے سولہ ماہ کے دوران سینکڑوں عمارات اور گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا۔

اسی بارے میں