’پھانسی میرے لئے انعام ہوگا‘گورو

افضل گورو
Image caption بھارتیہ جنتا پارٹی کہتی رہی ہے کہ موجودہ حکومت شدت پسندی پر نرم رویہ رکھتی ہے

بھارتی پارلیمنٹ پر حملے میں سپریم کورٹ کی طرف سے قصور وار قرار پائےجانے والے کشمیری شدت پسند افضل گورو نے ایک خط کے ذریعہ ’اقبال جرم‘ کیا ہے اور کہا ہے کہ پھانسی کے ذریعہ ملنے والی ’شہادت‘ ان کے لئے سب سے بڑا انعام ہوگا۔ انہوں نے لکھا ہے کہ اس پھانسی کے ذریعہ تیرہ دسمبر جیسے حملے یا مزاحمت نہیں رک سکتے۔

مسٹر گورو نے ان کی اہلیہ کے ذریعہ اور بعد میں ذاتی طور بھارتی صدر سے کی گئی رحم کی اپیل پر شرمندی ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ ’اس پر مجھے شرمندگی اور افسوس محسوس ہو رہا ہے جس کے لئے میں اپنی قوم سے معافی مانگتا ہوں۔یہی میری بہت بڑی نادانی اور غلطی تھی کہ میں نے اپنے دوستوں اور ہمدردوں کی نصیحت پر عمل کرکے اپیل کی۔‘

نئی دلّی کی تہاڑ جیل ’نمبرتین‘ سے یہ خط افضل گورو نے سخت گیر موقف رکھنے والے کشمیری علیٰحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی کے نام لکھا ہے۔

مسٹرگیلانی نے اس خط کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ افضل گورو پر جو الزامات تھے اس بارے میں انہیں صفائی کا موقع نہیں دیا گیا، لہٰذا انہیں سنائی گئی سزا انصاف پر مبنی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا: ’اگر صدر نے ان کی اپیل مسترد کردی اور حکومت نے واقعی انہیں پھانسی دے دی تو کشمیر میں احتجاج ہوگا۔‘

مسٹر گورو نے بھارت کےمیڈیا اداروں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ پولیس اور خفیہ اداروں کی ترجمانی کرتے ہیں۔ انہوں نے انڈین ایکسپریس میں ان سے متعلق شائع ہونے والی ایک خبر کو بیہودہ بکواس قرار دیاہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جیل سپرنٹنڈنٹ ان کے ساتھ گفتگو کرتے رہتے تھے اور ان پر ایک کتاب لکھنے کی خواہش ظاہر کرچکے تھے۔ ’جیل سپر نٹنڈنٹ نے اس شرط کے ساتھ کتاب لکھنے کی مجھ سے اجازت لی تھی کہ وہ کوئی بات توڑ مروڑ کر پیش نہ کرے گا مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔ واضح رہے کہ بھارت کی وزارت داخلہ نےگزشتہ ہفتے بھارتی صدر سے تحریری طور سفارش کی تھی کہ افضل گورو کی اپیل کو مسترد کیا جائے تاکہ انہیں عدالتی فیصلہ کے مطابق پھانسی دی جائے۔

قابل ذکر ہے صدرِ ہند نے سابق وزیراعظم راجیو گاندھی کے قتل میں ملوث تین افراد کی رحم کی درخواست مسترد ہوچکی ہے اور حکومت انہیں نو ستمبر کو پھانسی کی سزا دے رہی ہے۔ لیکن افضل گور سے متعلق ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں لیاگیا ہے۔

اس حوالے سے کشمیر کے سیاسی حلقوں میں تذبذب پایا جاتا ہے۔ وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے محتاط ردعمل میں خدشات کا اظہار کیا ہے جبکہ اپوزیشن پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے صدر سے اپیل کی ہے کہ سزائے موت کے خلاف عالمی رائے عامہ کا لحاظ کرتے ہوئے رحم کی درخواست منظور کی جائے۔

اگر محمد افضل کو پھانسی دی گئی تو وہ پچھلے چھبیس سال میں دوسرے ایسے کشمیری ہوں گے جنہیں علیحدگی پسند سرگرمیوں کے باعث تختۂ دار پر لٹکایا جائے گا۔

انیس سو چوراسی میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے بانی محمد مقبول بٹ کو انڈیا کی انٹیلیجنس کے ایک افسر کو قتل کرنے کے الزام پر سزائے موت دی گئی تھی۔

اسی بارے میں