انّا حامیوں کو پارلیمان کا نوٹس

اوم پوری تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption ’ہو سکتا ہے کہ جوش میں میں میرے منہ سے کچھ ایسی باتیں نکل گئی ہوں جو نہیں کہنی چاہیئے تھیں‘

بد عنوانی کے خلاف انّا ہزارے کی بھوک ہڑتال ضرور ختم ہو گئی ہے لیکن اس کے اثرات ابھی باقی ہیں۔

انڈیا میں بعض ارکان پارلیمان نےانّا ہزارے کے کی ساتھی کرن بیدی اور اداکار اوم پوری کو پارلیمان کے خلاف ’ہتک آمیز‘ الفاظ استعال کرنے پر استحقاق شکنی کا نوٹس دیا ہے۔

لوک سبھا یعنی ایوان زیریں کی سپیکر میرا کمار نے ایوان کو بتایا کہ انہیں بعض ارکان کی جانب سے تحریک استحقاق کا نوٹس ملا ہے اور وہ ان پر غور کر رہی ہیں۔

راجیہ سبھا میں ایک رکن نے انّا کےساتھی پرشانت بھوشن کو بھی یہ کہہ کر تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر یہ کہا تھا کہ ارکان رشوت لے کر قانون منظور کرتے ہیں۔

انا کی بھوک ہڑتال کے خاتمے سے قبل جمعہ کو کرن بیدی نے ڈرامائی انداز میں سیاست دانوں کا مذاق اڑایا تھا اور انہیں ’مو کھوٹا‘ کہا تھا ۔ اسی اسٹیج پر اداکار اوم پوری نے انّا کی حمایت کرتے ہوئے ایک تقریر میں کہا تھا کہ ’پارلمنٹ کے آدھے ارکان گنوار اور انپڑھ ہیں اور ان نالائقوں کو دوبارہ چن کر مت بھیجیئے۔‘

راجیہ سبھا میں سماجوادی پارٹی کے رکن رام گوپال یادو اور ایک دیگر رکن محمد ادیب نے تحریک استحقاق کا نوٹس دیا ہے۔ وقفۂ سوالات کے دوران مشتعل ارکان کو ایوان کے ڈپٹی چیرمین کے رحمان خان نے بتایا کہ ان نوٹسوں پو غور کیا جا رہا ہے۔

کرن بیدی نے اپنے بیان کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے کوئی ہتک آمیز بات نہیں کہی ہے۔ لیکن اوم پوری نے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ پارلیمنٹ کی اور آئین کی بہت عزت کرتے ہیں اور ’ہو سکتا ہے کہ جوش میں میں میرے منہ سے کچھ ایسی باتیں نکل گئی ہوں جو نہیں کہنی چاہیئے تھیں ۔‘

لیکن مسٹر پوری نے بھی بعض ارکان کے اس بیان پر نکتہ چینی کی ہے جس مین انہوں نے کہا تھا کہ مسٹر پوری نے تقریر کے وقت شراب پی رکھی تھی۔

اسی بارے میں