بھارتی معیشت کی ترقی کی رفتار سست

فائل فوٹو
Image caption بھارتی معیشت کی ترقی کی رفتار میں کمی آئی ہے

بھارت میں معیشت کی ترقی کی رفتار تیزی سے سست ہوئی ہے اور ماہرین کا خیال ہے کہ بے قابو مہنگائی اور سود کی اونچی شرح کی وجہ صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔

روال مالی سال کے پہلے تین مہینوں میں (اپریل سے جون) معیشت نے سات اعشاریہ سات فیصد کی شرح سے ترقی کی جوگزشتہ تقریباً ڈیڑھ سال میں سب سے کم ہے۔ گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں یہ رفتار نو اعشاریہ تین فیصد تھی۔

بھارت میں تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی ملک کی معیشت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے جس کی وجہ سے ریزرو بینک نے مستقل گیارہ مرتبہ سود کی شرح میں اضافہ کیا ہے اور ماہرین کے مطابق سولہ ستمبر کو بینک کے اگلے اجلاس میں سود کی شرح میں ایک مرتبہ بھر اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

نامہ نگار سہیل حلیم کے مطابق حجم کے لحاظ سے بھارت کی معیشت ایشیا میں تیسرے نمبر پر ہے اور یہ لگاتار دوسری مرتبہ ہے کہ یہاں ترقی کی رفتار آٹھ فیصد سے کم رہی ہے۔

مہنگائی کے علاوہ بھارتی معیشت کو مغربی دنیا میں جاری مالی بحران سے بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس کی کل درآمدات میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ملبوسات کی کمپنیاں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں اور موجودہ حالات میں ان کا کاروبار بڑے پیمانے پر متاثر ہوسکتا ہے۔

ماہر اقتصادیات آشوتوش داتر نے ایک خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تازہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ ترقی کی رفتار سست تو ہو رہی ہے لیکن ایسا نہیں کہ معیشت بالکل تباہی کی طرف گامزن ہے جیسا کہ کچھ لوگ خطرہ ظاہر کر رہے تھے۔

مبصرین کے مطابق ان اعداد وشمار سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ ’برک ممالک‘(برازیل، انڈیا، چین اور روس) کی معیشتوں میں ترقی کی رفتار کچھ سست ہو رہی ہے۔ چین اور برازیل میں بھی اسی طرح کے رحجانات سامنے آئے ہیں۔

انڈیا میں گزشتہ برس اسی مدت کے دوران پیداواری صنعت نے دس اعشاریہ چھ فیصد کی رفتار سے ترقی کی تھی جو اب سات فیصد سے کچھ زیادہ رہ گئی ہے لیکن زرعی پیداوار میں بہتری آئی ہے۔

منگل کو جاری کی جانی والی رپورٹ کے مطابق سود کی شرح میں غیر معمولی اضافے کا سب سے زیادہ اثر تعمیرات کی صنعت پر پڑ رہا ہے۔

سود کی اونچی شرح کی وجہ سے ملک میں ایسی صنعتیں سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہیں جن میں صارفین کو قرض کی ضرورت پڑتی ہے، جیسے گاڑیاں یا گھر خریدنے کے لیے۔ اسی وجہ سے اب ماہرین کا خیال ہے کہ رواں مالی سال میں معیشت کی ترقی کی رفتار آٹھ فیصد سے کم رہے گی۔

ملک میں افراط زر کی شرح اس وقت دس فیصد سے کچھ کم ہے جبکہ ریزرو بینک اور وزیر خزانہ پرنب مکھرجی چار سے ساڑھے چار فیصد کے حق میں ہیں۔

ریزرو بینک نے یہ واضح کیا ہے کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے وہ اقتصادی ترقی کی قربانی دینے کے لیے تیار ہے اور خود حکومت نے بھی بتدریج ترقی کی رفتار کے تخمینے کم کیے ہیں۔

حکومت کا خیال ہے کہ رواں مالی سال میں ترقی کی رفتار تقریباً ساڑھے آٹھ فیصد رہے گی جبکہ ریزرو بینک نے حال ہی میں کہا تھا کہ اسے آٹھ فیصد سے زیادہ کی امید نہیں ہے۔

اسی بارے میں