لاپتہ کشمیری: ’عید کیسی؟‘

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جن افراد کے اہل خانہ برسوں سے لاپتہ ہیں ان کی عید کیسی

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں عید سے قبل بازاروں میں چہل پہل ہے اور بینک حکام کے مطابق اے ٹی ایمز سے پانچ روز میں سو کروڑ سے زائد کی رقم نکالی گئی ہے۔

لیکن لاپتہ افراد کے لواحقین کو عید کی تیاریوں کا غم ہے نہ شوال کے چاند کا انتظار۔

عید سے قبل لالچوک میں دھرنے پر بیٹھے خاموش والدین، زمین کو تک رہی ’نصف بیوہ‘ خواتین اور طفلانہ شوخیوں سے عاری بچے حکومت سے پھر ایک بار پوچھ رہے ہیں: ’ہمارے اقرباء کہاں ہیں؟‘

شمالی ضلع بانڈی پورہ کی رہنے والی ستّر سالہ حاجرہ کے لیے کھُلی ہوا میں ہورہا یہ علامتی مظاہرہ ’دل بہلانے کا ایک ذریعہ‘ کیوں ہے؟

اُنیس سو نوّے میں مسلح شورش شروع ہوتے ہی حاجرہ نے اپنے چھ بیٹوں سے کہا کہ وہ دوکانداری میں اپنے والد کا ہاتھ بٹائیں۔ قصبہ میں بیشتر نوجوان پاکستان سے ہتھیار لے کر آئے تھے لیکن صوفی خاندان کے لڑکے دکان پر مصروف رہے۔

اُنیس سو ترانوے میں ایک دن فوجی محاصرے کے دوران فوجی اہلکاروں نے حاجرہ کے بیٹے بشیر صوفی کو دکان سے ہی گرفتار کرلیا۔ تب سے اس کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اب حاجرہ تنہا ہیں اور رات کی تنہائی میں وہ گھبراتی ہے

حاجرہ کی زندگی اس واقعہ سے بکھرگئی۔ دو بیٹوں نے شادی کرکے اپنی راہ لے لی اور تین بیٹے نذیر، رفیق اور اعجاز کنٹرول لائن عبور کرکے پاکستان چلےگئے۔ واپس آئے تو یہاں فوج کے ساتھ تصادم میں مارے گئے۔ خاوند کا سہارا تھا، لیکن وہ یکے بعد دیگرے بیٹوں کا جنازہ اُٹھاتے اُٹھاتے جان لیوا مرض میں مبتلا ہوگئے اور انتقال کرگئے۔

وہ کہتی ہیں ’اب میں اُس مکان میں اکیلی رہتی ہوں۔ رات کو ڈر لگتا ہے۔ یہاں تو پھر بھی لوگ ہیں، شور شرابہ ہے، مجھے لگا میرا دل بہل گیا۔‘

حاجرہ کے بغل میں بیٹھی ستائیس سالہ بیگم جان کی سات سالہ بیٹی اُس وقت چھ ماہ کی تھی جب اس کے والد عبدالرحمٰن فوجی حراست کے دوران لاپتہ ہوگئے تھے۔ عید کی تیاریوں سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ہاروان کی رہنے والی بیگم جان نے فوراً کہا: ’کیسی عید؟‘

لاپتہ افراد کے لواحقین وادی کے مرکزی بازار لالچوک میں ہرماہ دھرنا دیتے ہیں۔ ان ماہانہ دھرنوں کا اہتمام لاپتہ افراد کے لواحقین کی تنظیم ’ایسوسی ایشن آف ڈِس اپیئرڈ پرسنز‘ یا اے پی ڈی پی کے دو متوازی دھڑوں کی طرف سے کیا جاتا ہے۔

گزشتہ روز اے پی ڈی پی (امروز) نے اس دھرنے کا اہتمام کیا اور منگل کو اس دھرنے کا انعقاد اے پی ڈی پی (پروینہ) کی نگرانی میں ہوا۔

حالی ہی میں انسانی حقوق کے سرکاری کمیشن نے ایک رپورٹ کا انکشاف کیا تھا جس میں اعتراف کیا گیا ہے کہ وادی کے اڑتیس مقامات پر اجتماعی قبریں ہیں جن میں دو ہزار سے زائد افراد دفن کیےگئے ہیں۔ انسانی حقوق کے اداروں کو شبہہ ہے کہ لاپتہ افراد کو فرضی جھڑپوں میں ہلاک کرکے انہیں قبروں میں دفن کیا گیا ہے۔

پچھلے چند سال کے دوران بعض ایسی قبروں سے لاشیں نکالی گئیں اور ان کی شناخت بھی ایسے افراد کے طور ہوئی جو لاپتہ ہوگئے تھے، لیکن انہیں پاکستانی شدت پسند جتلا کر فرضی جھڑپوں میں ہلاک کیا گیا تھا۔

یہ پہلا موقع ہے کہ بھارتی تعلیمی اداروں سے وابستہ نوجوان طالب علم کشمیر میں انسانی حقوق کے معاملہ پر سرگرم ہورہے ہیں لیکن ان کی تعداد بہت کم ہے۔

اے پی ڈی پی (پروینہ) کے ساتھ بھارتی تعلیمی و تحقیقی ادارہ ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز کے کئی طالب علم اور محقق وابستہ ہوگئے ہیں۔

ممبئی کی رہنے والی چھبیس سالہ بھونیت کور کہتی ہیں کہ ’بھارتی نوجوانوں میں بہت کم ایسی تعداد ہے جو کشمیر میں لاپتہ افراد اور اجتماعی قبروں سے متعلق فکرمند ہے۔ وہ بے شک انا ہزارے کے ان شن سے پریشان ہے، لیکن کشمیر میں موجود اتنے بڑے انسانی مسئلے سے بے پروا ہیں۔‘

اس کی وجہ کیا ہے:؟ ’دراصل بھارت کے سیاسی اور میڈیا ادارے ملک میں کشمیر سے متعلق یا تو آدھی بات کہتے ہیں یا کچھ کہتے ہی نہیں۔ اور جب پوری بات کہتے ہیں تو اس سے غلط فہمیاں پھیلتی ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ بھارتی آبادی کی اکثریت کو معلوم ہی نہیں ہے کہ جموں کشمیر بھارت کی معمول کی ریاست نہیں بلکہ دستاویز الحاق کے تحت اس کے ساتھ ایک مشروط آئینی رشتہ ہے۔

اسی بارے میں