راجیوقتل میں ملوث شخص کی بیٹی کی اپیل

نالنی، موروگن
Image caption نالنی اور موروگن بیس برس سے جیل میں ہیں، موروگن کو پھانسی ملنے والی ہے

سنہ انیس سو اکانوے میں بھارت کے سابق وزیراعظم راجیو گاندھی کے قتل سے ملک دہل کر رہ گيا تھا لیکن یہ واقعہ اس لڑکی کے لیے بھی کسی المیہ سے کم نہیں جو اس وقت تک پیدا بھی نہیں ہوئی تھی۔

قتل کی واردات کے چند روز بعد ہی پولیس نے قتل کی سازش کرنے کے الزام میں ہریتھا موروگن کے والدین کو گرفتار کیا تھا۔

بعد میں سنہ انیس سو بانوے میں ہریتھا قید خانے میں ہی پیدا ہوئی تھیں اور تب سے وہ اپنے والدین سے صرف ایک بار ہی ملاقات کر پائی ہیں۔

چھوٹی بچي کی حیثیت سے ہریتھا کو سری لنکا میں ان کے نانا نانی کے پاس پہنچا دیا گيا تھا جنہوں نے ان کی پرورش کی۔ اب وہ لندن میں میڈیکل کی طالبہ ہیں۔

ہریتھا کی ماں نالنی اور باپ موروگن کو عدالت نے موت کی سزا سنائی تھی۔ دس برس قبل رحم کی اپیل کے بعد ماں کی سزا تو عمر قید میں بدل دی گئي اور وہ پوری زندگي جیل میں ہی رہیں گي۔

لیکن والد موروگن ان تین افراد میں سے ایک ہیں جنہیں اس معاملے میں پھانسی کا انتظار ہے۔ نو ستمبر کو ان کی پھانسی کا دن بھی مقرر ہوچکا تھا لیکن ہائی کورٹ میں اپیل کے بعد پھانسی میں مزید آٹھ ہفتوں کی مہلت مل گئی ہے۔

بی بی سی سے بات چيت میں ہریتھا نے اس خبر پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ’میں ہر اس شخص کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گی جس نے ان کے لیے لڑائی لڑي‘۔

پھانسی موخر کرنے پر ہریتھا کو خوشی تو ہے لیکن ان کی زندگي غموں سے پر ہے۔ وہ کہتی ہیں ’ کسی کو بھی میری طرح زندگي نہ جھیلنی پڑے۔ میں جیل میں پیدا ہوئی تھی، والدین سے صرف خط کے ذریعہ ہی رابطے میں رہتی ہوں۔ وہ ہمیشہ کہتے ہیں کہ وہ صرف میرے لیے جی رہے ہیں۔ میں ہر روز اپنے والدین کی کمی محسوس کرتی ہوں‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP WIRE
Image caption راجیوگاندھی خودکش حملے میں ہلاک ہوئے تھے

’صرف اس خيال سے کہ وہ کہیں زندہ ہیں مجھے تسلّی ملتی ہے اور زندگی رواں دواں ہے۔ لیکن اب یہ سہارا بھی شاید مجھے سے چھین لیا جائے‘۔

ہریتھا نے سنہ دو ہزار پانچ میں صرف ایک بار اپنے والدین سے ملاقات کی تھی اور وہ اس بات پر اصرار کرتی ہیں کہ وہ بےقصور ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ’ بچپن میں مجھے اپنے والدین کے متعلق کچھ بھی معلوم نہیں تھا۔ جب میں ان سے ملی تو احساس ہو کہ میں نے کیا کھویا ہے۔ انہوں نے مجھ سے تعلیم حاصل کرنے پر زور دیا‘۔

ہریتھا کا کہنا ہے ’چونکہ ان کی زندگی میں ایک کمی رہی ہے اس لیے میں ان کی خوشی کے لیے سخت محنت کرنا چاہتی تھی۔ میں چاہتی ہوں کہ وہ اپنی زندگی میرے ذریعہ گزاریں۔ میری ماں اکثر کہتی ہیں کہ میں دوسروں کی مدد کیا کروں ۔ جب میں نے انہیں بتایا مجھے میڈیکل سکول میں داخلہ مل گيا ہے تو وہ بہت خوش ہوئے۔ لیکن اب یہ خوشیاں بہت دن رہنے والی نہیں، مجھے لگتا ہے کہ میں ایک بدقسمت لڑکی ہوں‘۔

ہریتھا نے لندن میں بھارتی سفارت خانے میں ویزا کے لیے درخواست دی ہے تاکہ وہ اپنے والد کو الودع کہہ سکیں۔ لیکن انہیں خدشہ ہے کہ شاید انہیں ویزا نہ مل سکے۔

بھارتی سفارت خانہ نے انہیں بتایا ہے کہ ویزا کی درخواست پر فیصلہ لینے میں کم سے کم پندرہ دن کا وقت چاہیے۔ اس سے پہلے سری لنکا میں بھارتی سفارت خانہ میں ویزا کی ان کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔

والدین سے ملنے کی خواہش میں انہوں نے تمل ناڈو کی وزیراعلٰی جے للتا سے بھی اپیل کی ہے۔ وہ کہتی ہیں ’اگر آپ انہیں آزاد نہیں کرنا چاہتے تو نہ کریں لیکن انہیں پھانسی نا دیں‘۔

اس سلسلے میں تمل ناڈو میں سیاسی دباؤ بھی ہے لیکن اب زیادہ کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ ہائی کورٹ نے تکنیکی بنیادوں پر سزا پر عمل درآدمد کرنے میں تاخیر کا حکم دیا ہے۔

راجیو گاندھی کا قتل ایک انتخابی ریلی کے دوران ہوا تھا جب ایک خود کش بمبار خاتون نے اپنے آپ کو بم سے اڑا لیا تھا۔ اس کا الزام سری لنکا کی علحیدگی پسند تنظیم ایل ٹی ٹی ای پر عائد کیا گيا تھا۔

اس معاملے میں پھانسی کے منتظر موروگن اور سناتھان کا تعلق سری لنکا سے ہے۔ جبکہ پیراري والن کا تعلق ریاست تمل ناڈو سے ہے۔ پیراری کی ماں اپنے بیٹے کو بے قصوروار بتاتی ہیں اور انہوں نے بھارتی جوڈیشیل سسٹم پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔

ان کی ماں اروپوتھم امّال کہتی ہیں ’میرے بیٹے پر بم کو اڑانے کے لیے نائن وولٹ بیٹری کے ریموٹ کنٹرول خریدنے کا الزام ہے جسے خودکش بمبار نے استعمال کیا تھا‘۔ اس نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’پورا فیصلہ ملزمین کے زبردستی لیے گئے اقبالیہ بیان پر مبنی ہے‘۔

راجیو گاندھی قتل کے تمام ملزمین کا مقدمہ انسداد دہشت گردی قانون ٹاڈا کے تحت چلایا گيا تھا۔ اس قانون کے غلط استعمال کے بہت سے واقعات کے سامنے آنے کے بعد اسے کافی پہلے ہی کالعدم قرار دیا جا چکا ہے۔

موت کی سزا سنائے جانے کے بعد ان کی رحم کی اپیل گيارہ برس سے التوا میں پڑی ہوئی تھی اور تینوں افراد بیس برس سے زیادہ کا عرصہ جیل میں گزار چکے ہیں۔

اسی بارے میں