’حُریت کانفرنس الیکشن پر آمادہ تھی‘

خفیہ معلومات کی تشہیر کے لئے سرگرم ویب سائٹ ’وکی لیکس‘ کے مطابق بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں مذاکرات کے حامی علیٰحدگی پسندوں نے چار سال قبل امریکی سفارتکاروں سے ملاقات کے دوران انتخابات میں شرکت پر آمادگی ظاہر کی تھی اور کہا تھا کہ بھارت اس کے بدلے میں بڑی سیاسی رعایات کا اعلان کرے۔

یہ سنسنی خیز انکشاف وکی لیکس کی جانب سے جمعہ کو شائع کیے جانے والے ڈھائی لاکھ امریکی سفارتی پیغامات میں سے ایک میں کیا گیا ہے۔

سرینگر میں بی بی سی اردو کے نامہ نگار ریاض مسرور کے مطابق حریت کانفرنس(ع) نے اس انکشاف کو ’آدھا سچ، آدھا جھوٹ‘ قرار دیا ہے، اور کہا ہے کہ ’بھارتی آئین کے تحت کوئی بھی انتخابی عمل جموں و کشمیر پر بھارتی قبضے کو دوام بخشنے کا ذریعہ ہوتا ہے‘۔

سفارتی پیغام کے مطابق فروری دو ہزار سات میں نئی دلّی میں مقیم امریکی سفارتکار ٹیڈ اوسی ایس نے ’الیکشن کے لیے تیاری‘ کے عنوان سے امریکی دفتر خارجہ کو جو مراسلہ بھیجا ہے اس میں مسٹر ملفورڈ کی حریت کانفرنس (ع) کے سینیئر رہنما بلال غنی لون کے ساتھ ملاقات کا حوالہ دے کر کہا گیا ہے کہ حریت کانفرنس کا یہ دھڑہ انتخابات کے لیے تیار ہے لیکن وہ چاہتا ہے کہ بھارت پہلے کچھ سیاسی رعایات کا اعلان کرے۔

بلال لون، آٹھ سال قبل قتل کیے گئے علیٰحدگی پسند رہنما عبدالغنی لون کے فرزند ہیں۔ ان کے چھوٹے بھائی سجاد غنی لون نے پچھلے سال بھارتی پارلیمنٹ کے لیے الیکشن لڑا لیکن کامیاب نہیں ہوئے۔

پیغام میں بلال کے خیالات نقل کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ علیٰحدگی پسندوں کے تمام گروپوں کو ایک ’پلیٹ فارم‘ پر جمع کرنا چاہتے ہیں۔ ’گیلانی تو سخت گیر مؤقف رکھتا ہے، وہ نہیں مانے گا۔ شبیر شاہ تو حاشیے پر ہیں، لیکن یٰسین ملک سے ہم بات کریں گے، وہ اگر الیکشن نہ لڑے، لیکن ان سے ہم کم از کم اس کی کھلے عام مخالفت نہ کرنے کی ضمانت لیں گے‘۔

بلال غنی لون نے اپنے فوری ردعمل میں کہا ہے کہ ’یہ تو آدھا سچ اور آدھا جھوٹ ہے۔ میں نے کچھ باتیں ضرور کہی ہوں گی، لیکن میں نے یہ ہرگز نہیں کہا کہ ہم لوگ الیکشن لڑیں گے‘۔

رابطہ کرنے پر حریت کانفرنس کے سربراہ میر واعظ عمرفاروق نے بی بی سی کو بتایا کہ ’الیکشن ایک جمہوری عمل ہے اور ہم اس عمل کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم مانتے ہیں کہ عوامی نمائندگی کا سوال الیکشن سے ہی حل ہوتا ہے۔ لیکن کشمیر ایک مقبوضہ علاقہ ہے، یہاں بھارت کی نگرانی میں جو الیکشن ہوتے ہیں، وہ اس قبضہ کو دوام بخشنے کے لیے ہوتے ہیں‘۔

قابلِ ذکر ہے وکی لیکس نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ دو ہزار دس میں امریکی حکومت کنٹرول لائن کے ذریعے مسلح دراندازی کے معاملے پر بھی فکرمند تھی۔

وکی انکشاف کے مطابق بھارت میں امریکی سفیر ٹِموتھی رومر نے فروری دو ہزار دس میں حکومت ہند کو لکھا تھا کہ کنٹرول لائن کے قریب پاکستانی علاقہ میں مسلح گروپ دوبارہ منظم ہورہے ہیں۔ اس مراسلہ میں خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ پاکستانی علاقوں سے بھارتی علاقوں میں مسلح دراندازی کی نئی لہر سے مربوط مذاکرات متاثر ہوں گے۔

اس سے قبل دو ہزار پانچ میں اُس وقت کے امریکی سفیر برائے بھارت ڈیوڈ سی ملفورڈ کی طرف سے دفتر خارجہ بھیجے گئے مراسلہ کا ذکر بھی ہے، جس میں بش انتظامیہ پر زور دیا گیا ہے کہ وہ لائن آف کنٹرول پر فائربندی کے معاہدے پر دونوں ملکوں کی پابندی کو یقنی بنائیں۔

کیبل میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر پاکستان نے معاہدہ توڑا تو بھارت کا ردعمل شدید ہوگا۔

اسی بارے میں