مسئلہ کشمیر:’سمجھوتے کے بہت قریب تھے‘

فائل فوٹو، من موہن سنگھ، مشرف ملاقات تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption صدر مشرف نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے چار نکاتی فارمولہ پیش کیا تھا

خفیہ معلومات کی تشہیر کے لیے سرگرم ویب سائٹ ’وکی لیکس‘ کے جاری کردہ خفیہ امریکی سفارتی مراسلوں کے مطابق پاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیر پر ایک سمجھوتے کو حتمی شکل دینے کے بہت قریب پہنچ گئے تھے لیکن پاکستان میں جنرل مشرف کو درپیش سیاسی دشواریاں آڑے آگئیں۔

یہ بات بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے سینیئر امریکی رہنماؤں کے ایک وفد سے ملاقات کےدوران کہی تھی۔

مشرف کا کشمیر کے لیے ایک فارمولہ

دلّی سے بی بی سی کے نامہ نگار سہیل حلیم کے مطابق اگرچہ پاکستان کے سابق حکمران جنرل مشرف اور پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری پہلے بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ اس دیرینہ اور پیچیدہ مسئلہ کو حل کرنے کی راہ میں ٹھوس پیش رفت ہوئی تھی لیکن یہ پہلی مرتبہ ہے کہ بھارت کی اعلیٰ ترین سیاسی قیادت نے امریکی رہنماؤں سے اس بات کی تصدیق کی ہے۔

لیک کیے جانے والے خفیہ سفارتی مراسلے کے مطابق امریکہ کے ایوان نمائندگان کی خارجہ کمیٹی کے سربراہ ہاورڈ برمین کی قیادت میں ایک وفد نے اپریل دو ہزار آٹھ میں من موہن سنگھ سے ملاقات کی تھی جس میں وزیر اعظم نے کہا تھا کہ فروری دو ہزار سات سے پہلے (جب پاکستان میں جنرل مشرف برسراقتدار تھے) مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی راہ میں ٹھوس پیش رفت ہوئی تھی۔

’پس پردہ (بیک چینل) سفارت کاری کے ذریعے ہمارے اور صدر مشرف کے درمیان ایک نان ٹیری ٹوریل حل(غیر علاقائی حل) پر اتفاق ہوگیا تھا جس میں کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان لوگوں کو آزادی سے آنے جانے اور تجارت کرنے کی اجازت حاصل ہوتی۔‘

خود وزیر اعظم من موہن سنگھ نے بھی اس دور میں ’سافٹ بارڈرز‘ کی تجویز رکھی تھی جس سے بنیادی طور پر یہ مطلب اخذ کیا جا رہا تھا کہ سرحدوں اور لائن آف کنٹرول پر عائد پابندیاں ختم یا بہت نرم کر دی جائیں گی اور انہوں نے کشمیر میں سرحد کو بے معنی بنانے کی بات بھی کہی تھی۔

اکیس اپریل دو ہزار نو کو بھیجے جانے والے اس مراسلے کی تفصیلات بھارتی اخبارات نےنمایاں طور پر شائع کی ہیں۔

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ ’وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ بھارت ایک مستحکم، مضبوط، پر امن اور جمہوری پاکستان دیکھنا چاہتا ہے اور پاکستان کی ایک انچ زمین پر بھی دعویٰ نہیں کرنا چاہتا۔‘

سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے گزشتہ برس کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگئی تھی اور سمجھوتے کے مسودے کو حتمی شکل دی جا رہی تھی اور یہ کہ دونوں نے اپنے مسودے بیک چینل سفارت کاری کے ذریعے ایک دوسرے کو دیے تھے۔

صدر مشرف نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے چار نکاتی فارمولہ پیش کیا تھا جس میں کشمیر سے فوج کی واپسی، خطے کے لیے زیادہ سے زیادہ خود مختاری، سرحدوں پر بندشیں ختم کرنے اور خطے کا مشترکہ طور پر انتظام سنبھالنے کی تجویز شامل تھی۔ لیکن مراسلے میں صدر مشرف کے فارمولے کا براہِ راست ذکر نہیں ہے۔

اسی بارے میں