بنگلہ دیش پانی کی تقسیم، ممتا کا اختلاف

بھارتی وزیرِاعظم تصویر کے کاپی رائٹ GOI
Image caption منموہن سنگھ ایک بڑا وفد لیکر بنگلہ دیش جا رہے ہیں

بھارت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ ایک بڑے وفد کے ہمراہ دو روزہ دورے پر منگل کو بنگلہ دیش جا رہے ہیں۔

وہ اپنے قیام کے دوران باہمی تعاون اور اشتراک کے کئی معاہدوں پر دستخط کریں گے لیکن دورے پر جانے سے عین قبل دریائی پانی کی تقسیم کے ایک مجوزہ معاہدے کے بارے میں بے یقینی پیدا ہو گئی ہے۔

دلی سے نامہ نگار شکیل اختر کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم سنگھ کے اس دورے کو دونوں ملکوں کے تعلقات کے سلسلے میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

ان کے ساتھ وزیر خارجہ، آبی وسائل کے وزير، چار شمال مشرقی ریاستوں کے وزراء اعلٰی اور قومی سلامتی کے مشیر سمیت ایک بڑا وفد ڈھاکہ جا رہا ہے۔

اطلاعات ہیں کہ بھارت کو راہداری دینے سے لے کر بھارت سے بجلی کی سپلائی اور بنگلہ دیش میں ایک بڑے بجلی گھر کے قیام سمیت تجارت اور باہمی رشتوں کو فروغ دینے کے لیے دس سے زیادہ معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گے۔

ان معاہدوں میں دریاؤں کے پانی کی تقسیم کا بھی ایک اہم معاہدہ ہونے والا ہے۔ ڈھاکہ میں بھارت کی سابقہ ہائی کمشنر وینا سیکری کہتی ہیں’ دریائے تیستا اور دریائے فینی کے پانی کی تقسیم پر عارضی معاہدہ ہونے کی پوری امید ہے اور یہ دونوں ملکوں کے تعلقات کے فروغ دینے کی سمت ایک اہم پیش رفت ہوگی‘۔

دریائے تیستا بھارت کی ریاست سکم سے نکل کر مغربی بنگال ہوتے ہوئے بنگلہ دیش میں داخل ہوتا ہے۔ اس کے پانی کی تقسیم پر ایک عرصے سے صلاح و مشورہ چل رہا تھا اور معاہدے کا ایک مسودہ تیار کیا گیا تھا ۔

مغربی بنگال کی وزیر اعلٰی ممتا بینرجی بھی مسٹر سنگھ کے ہمراہ ڈھاکہ جانے والی تھیں لیکن انہوں نے معاہدے کے مسودے میں تبدیلی پر اعتراض کرتے ہوئے ڈھاکہ جانے سے انکار کر دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption دریائے تیستا بھارت کی ریاست سکم سے نکل کر مغربی بنگال ہوتے ہوئے بنگلہ دیش میں داخل ہوتا ہے

ان کا کہنا ہے کہ پہلے طے کیے گئے مسودے میں بنگلہ دیش کو 25 ہزار کیوسک پانے دینے کی بات تھی لیکن نئے مسودے میں 33 ہزار کیوسک پانی دینے کا ذکر ہے ۔

مغربی بنگال کی ناراضگی سے یہ معاہدہ فی الحال خطرے میں پڑتا ہو نظر آرہا ہے۔

خارجہ سیکریٹری رنجن متھائی نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ کوئی بھی معاہدہ سبھی فریقوں کے اتفاق سے ہی منظور کیا جائے گا ۔ان کا کہنا تھا کہ ’ کوئی بھی معاہدہ جو ہم کریں گے وہ نہ صرف بنگلہ دیش کے لیے قابل قبول ہونا چاہیئے بلکہ اسے مغربی بنگال کی بھی منظوری ملنی چاہیئے‘۔

پانی کی تقسیم کا معاملہ مغربی بنگال سے زیادہ بنگلہ دیش میں ایک حساس سیاسی معاملہ ہے

بنگلہ دیش میں وزیر اعظم شیخ حسینہ کی عوامی لیگ کو بھارت سے بہت قریب سمجھا جاتا ہے اور حزب اختلاف کی رہنما خالدہ ضیاکی جماعت بی این پی یہ الزام لگاتی رہی ہے کہ شیخ حسینہ بھارت کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ملک کے مفادات سے سمجھوتہ کر رہی ہیں ۔

تجزیہ کاروں کا کہناہے کہ اگر دریائے تیستا کے پانی کی تقسیم کا معاہدہ عمل میں نہ آ سکا تو وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کے لیے یہ ملک کے اندر ایک بڑا سیاسی مسئلہ پیدا کر سکتا ہے ۔

اسی بارے میں