امر سنگھ رشوت ستانی کےالزام میں گرفتار

امر سنگھ
Image caption پارلیمنٹ رشوت معاملے میں رقم امر سنگھ کے پاس سے آئی تھی

بھارت میں دلی کی ایک عدالت نے پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے دوران بعض ارکان پارلیمان کو رشوت دینے کی کوشش کے الزام میں ملک کے ایک سینیئرسیاسی رہنما امر سنگھ اور بی جے پی کے دو سابق ارکان پارلیمان کوگرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔

بی جے پی کے رہنما ایل کے اڈوانی کے سابق مشیر سدھیندر کولکرنی بھی اس معاملے میں ایک ملزم ہیں اور اس وقت وہ امریکہ میں ہیں۔ ان کی واپسی پر انہیں بھی گرفتار کیے جانے کی توقع ہے۔

ملائم سنگھ یادو کی سماجوادی پارٹی کے سابق رہنما امر سنگھ پر الزام ہے کہ ارکان پارلیمان کو دی جانے والی رقم مبینہ طور پر ان کے یہاں سے آئی تھی۔

عدالت نے ’ کیش فار ووٹ‘ کے نام سے مشہور اس معاملے میں دو سابق ارکان پارلیمان کو بھی گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔ ایک موجودہ رکن پارلیمان کی گرفتاری بھی متوقع ہے۔

سبھی ملزموں نے ضمانت کی درخواست دی تھی جو عدالت نے مسترد کر دی۔ عدالت نے امر سنگھ اور دیگر ملزموں کو انیس ستمبر تک عدالتی تحویل میں لینے کا حکم دیا۔ پولیس نے امر سنگھ کو تحویل میں لے لیا ہے اور انہیں دلی کی تہاڑ جیل میں رکھا جائےگا۔

پولیس نے اس معاملے میں کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کے مشیر احمد پٹیل سے پوچھ گچھ کی تھی اور فرد جرم میں کہا گیا ہے کہ ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا۔

پولیس نے اس معاملے کی تفتیش کے دوران بی جے پی کے ایک کارکن سہیل ہندوستانی کو پہلے ہی گرفتار کیا ہے جس نے پولیس کے مطابق ارکان پارلیمان سے سودے بازی کا انتظام کیا تھا۔

یہ معاملہ سنہ دو ہزار آٹھ کا ہے جب امریکہ سے جوہری اشتراک کے معاہدے کے سوال پر حکومت سے اختلاف کے سبب اتحادی بائیں محاذ نے حکومت سے اپنی حمایت واپس لے لی تھی۔

سماجوادی پارٹی کے سابق رہنما امر سنگھ اوردیگر ملزموں پر الزام ہے کہ انہوں نے بی جے پی کے بعض ارکان پارلیمان کو اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ کے دوران ووٹ نہ ڈالنے کے لیے رشوت دینے کی کو شش کی تھی۔

ووٹنگ سے پہلے سنہ دو ہزار آٹھ میں پارلیمنٹ میں اس وقت سنسنی پیدا ہو گئی تھی جب حزب اختلاف کے رہنا ایل کے اڈوانی نے ایوان کے اندر تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے کے نوٹوں کی گڈیاں اسپیکر کے سامنے رکھ دیں۔ کانگریس اور بی جے پی رشوت ستانی کے اس معاملے میں ایک دوسرے پر الزام لگاتی رہی ہیں۔

یہ معاملہ اب بھی پراسرار بنا ہوا ہے اور ابھی تک یہ بھی واضح نہیں ہے کہ رشوت کا پیسہ دیا کس نے تھا۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ایک ٹی وی چینل نے رشوت ستانی کے اس معاملے کی خفیہ ریکارڈنگ کی تھی۔ لیکن اس واقعے کے کچھ ہی دنوں بعد یہ پس منظر میں چلا گيا۔

چند ہفتے قبل جب سپریم کورٹ نے دلی پولیس کی سر زنش کی اور اس اس معاملے کی تفتیش کی رپورٹ مانگی تو ایک بار پھر پولیس حرکت میں آئی اور بعض افراد کو گرفتار کیا۔

حزب اختلاف کی جماعت بی جے پی نے عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ پارٹی کے ترجمان راچیو پرتاپ سنگھ روڈی نے کہا ہے کہ اس سچائی کا پتہ لگانا ضروری ہے کہ ’امر سنگھ کس کے ایماء پر کام کر رہے تھے اور اس سے کس کوفائدہ پہنچ رہا تھا۔‘

بھارتی کمیونسٹ پارٹی کے رہنما گروداس داسگپتا نے بھی انہیں خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی یہ اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی پوزیشن کی وضاحت کرے۔

امر سنگھ کی گرفتاری کے بعد اس معاملے کے کئی اور پہلو سامنے آ سکتے ہیں۔

اسی بارے میں