کشمیر: گرفتاریوں کے خلاف دو روزہ ہڑتال

فائل فوٹو
Image caption ہڑتال کے سبب کئی علاقوں میں زندگی معطل ہے

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں نوجوانوں کی گرفتاریوں اور پولیس کی زیادتیوں کے خلاف دو روزہ ہڑتال سید علی گیلانی کی اپیل پر کی جارہی ہے۔

منگل کی صبح سے ہی سرینگر، اننت ناگ، پلوامہ، بارہمولہ، سوپور، کپوارہ اور دوسرے قصبوں میں عام زندگی معطل ہے۔ تعلیمی اور کاروباری ادارے بند ہیں اور شادیوں کی سینکڑوں تقریبات بھی متاثر ہوئی ہیں۔

سرینگر میں ہمارے نامہ نگار ریاض مسرور نے بتایا کہ علیحدگی پسند تنظیموں کے اتحاد حریت کانفرنس کے ایک دھڑے کے سربراہ سید علی گیلانی نے عید سے قبل حکومت کو خبردار کیا تھا کہ اگر نوجوانوں کو رہا نہ کیا گیا تو وہ ایک نئے احتجاجی پروگرام کا اعلان کریں گے۔

وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے پتھراؤ میں ملوث پائےگئے ایک ہزار سے زائد نوجوانوں کے خلاف پولیس کیس خارج کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم بار بار معافی کا اعلان نہیں کریں گے‘۔

مسٹر گیلانی نے معافی کے اس اعلان کو ’مذاق‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ایک ہزار سے زائد نوجوانوں کو مختلف قیدخانوں میں نظربند کیا گیا ہے۔

تاہم وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ فقط پینتیس نوجوانوں کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت قید کیا گیا ہے جبکہ ستّر نوجوانوں کو واضح شواہد کی بنا پرگرفتار کیا گیا۔

پچھلے سال کی احتجاجی تحریک کے دوران مظاہرین کے خلاف سرکاری فورسز کی کارروائیوں میں سو سے زائد نوجوان مارے گئے تھے۔

پولیس کے سربراہ کلدیپ کمار کھڈا نے حالیہ دنوں میں اعتراف کیا کہ مظاہروں کی پیش بندی کے طور پر پانچ ہزار نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا جن میں سے بیشتر کو رہا کیا گیا ہے۔ گرفتاریوں سے بچنے کے لئے سینکڑوں نوجوان روپوش ہوگئے ہیں۔

انسانی حقوق کے لیے سرگرم مقامی اداروں کا کہنا ہے کہ حکومت نے پولیس کو اندھا دھند گرفتاریوں کی اجازت دے کر نوجوانوں کا جینا حرام کردیا ہے۔

ان اداروں کے مطابق پولیس اب نوجوانوں کو گرفتار کرکے ان کی رہائی کے عوض والدین سے ’تاوان‘ وصول کرتے ہیں۔ تاہم عمرعبداللہ نے والدین سے کہا ہے کہ ایسی کوئی بھی شکایت ہو تو ان سے براہ راست رابطہ کریں۔

اسی بارے میں