جولین اسانژ کی جگہ آگرہ کا پاگل خانہ: مایا وتی

مایاوتی
Image caption مایاوتی نے وکی لیکس کے الزامات کو مسترد کیا ہے

بھارت کی شمالی ریاست اتر پردیش کی وزیر اعلٰی مایا وتی نے خفیہ امریکی سفارتی مراسلے جاری کرنے والی ویب سائٹ وکی لیکس کے ’مالک‘ کو آگرہ کے پاگل خانے میں داخل کرنے کی پیش کش کی ہے۔

اس سے پہلے وکی لیکس کے جاری کردہ ایک سفارتی مراسلے میں الزام لگایا گیا تھا کہ وہ ایک عامر کی طرح حکمرانی کرتی ہیں، اور ان کی شان و شوکت کا یہ عالم ہے کہ ایک مرتبہ ممبئی سے ان کے پسندیدہ سینڈل لانے کے لیے ان کا نجی جیٹ طیارہ روانہ کیا گیا تھا اور ان کے دور حکومت میں بدعنوانی چھائی ہوئی ہے۔

امریکی سفارتکاروں نے بظاہر یہ معلومات مایاوتی کے قریب تصور کیے جانے والے افراد سمیت مختلف ذرائع سے حاصل کی تھی اور یہ مراسلے دو ہزار سات اور دو ہزار نو کے درمیان بھیجے گئے تھے۔

لیکن مایاوتی نے لکھنؤ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران انتہائی سخت زبان استعمال کرتے ہوئے ان الزامات کو یکسر مسترد کیا۔

مایا وتی نے کہا کہ ’ وکی لیکس کا مالک گزشتہ ایک دو دنوں سے میرے اور میری سرکار کے بارے میں جو غلط، بے بنیاد اور شرارت سے بھری ہوئی بےہودہ خبریں دے رہا ہے، اس سے ایسا لگتا ہےکہ یا تو وکی لیکس کا مالک پاگل ہوچکا ہے، یا پھر ہماری مخالف سیاسی جماعتوں کے ہاتھوں میں کھیل کر ہماری پارٹی اور حکومت کو بدنام کرنے کے لیے جان بوجھ کر اس طرح کی خبریں دے رہا ہے۔‘

وکی لیکس کے بانی جولین اسانژ کو سوئیڈن میں زنا کے الزامات کا سامنا ہے۔ وہ فی الحال برطانیہ میں ہیں جہاں انہوں نے سوئیڈن کی جانب سے حوالگی کی درخواست کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ اگر ان کی اپیل ناکام ہوجاتی ہو تو انہوں سوئیڈن جانا پڑسکتا ہے۔

مایاوتی نے کہا کہ وہ اس کارروائی کی سخت مذمت کرتی ہیں اور ’ وکی لیکس کے مالک کے ملک کی سرکار سے انہیں پاگل خانے بھیجنے کی درخواست کرتی ہوں اور اگرہ وہاں جگہ نہیں ہے تو میں وہاں کی سرکار کو اسے آگرہ کے پاگل خانے میں بھیجنے کا مشورہ دیتی ہوں۔’

انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک رہنما کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ’ وکی لیکس کی خبروں کی بنیاد پر گھنونی سیاست کرنے والوں کی بھی میں سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہوں۔‘

وزیر اعلٰی نے کہا کہ خصوصی طیارہ ممبئی بھیجنے کا انھیں تو علم نہیں ہے لیکن ’ لگتا ہےکہ وکی لیکس کے مالک کے ساتھ بی جے پی کا یہ رہنما بھی اس طیارے پر سوار ہوکر سینڈل خریدنے ممبئی گیا ہوگا۔‘

اترپردیش کی ریاستی اسمبلی کے انتخابات آئندہ چند مہینوں میں ہونے والے ہیں جن میں مایاوتی کی حکمراں بہوجن سماج پارٹی کو بی جے پی اور سماجوادی پارٹی سے سخت چیلنج کا سامنا ہوگا۔

انہوں نے اعلان کیا کہ ان کے جن اعلی افسران کو ’ وکی لیکس کی خبروں کے ذریعے بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، انہیں وہ حکومت میں اور بھی زیادہ اہم ذمہ داریاں دیں گی۔‘

مراسلوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مایاوتی کو وزیر اعظم بننے کی دھن لگی ہوئی ہے۔’ لیکن ہم نے جن مبصرین سےبات کی ان کا خیال ہے کو وہ ایک دن وزیر اعظم بن تو سکتی ہیں لیکن ان کا کام کرنے کا طریقہ ایسا ہے کہ زیادہ دن ٹک نہیں پائیں گی۔‘

مایاوتی کا شمار ملک کی متنازعہ سیاسی شخصیات میں کیا جاتا ہے اور ان پر سرکاری خزانے کو برباد کرنے اور بڑے پیمانے پر بدعنوانی کے الزامات لگتے رہتے ہیں لیکن مایاوتی ان الزامات کو سماج کے پسماندہ طبقات کو دبانےکی کوششوں سے تعبیر کرتی ہیں۔

اسی بارے میں