دلی: بم دھماکے میں گیارہ افراد ہلاک

 ہائی کورٹ دھماکہ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دھماکے کی فورنسزک تفتیش کی جارہی ہے

بھارت کے دارالحکومت دلی میں حکام کے مطابق دلی ہائی کورٹ کے باہر ہونے والے بم دھماکے میں کم از کم گیارہ افراد ہلاک اور چھہتّر زخمی ہوگئے ہیں۔

حکام کے مطابق دھماکہ ہائی کورٹ کے ایک مرکزی گیٹ نمبر پانچ کے باہر ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ دھماکہ مقامی وقت کے مطابق صبح سوادس بجے ہوا۔

شدت پسند تنظیم حرکت الجہاد الاسلامی کی جانب سے مبینہ طور پر بھیجی جانے والی ایک ای میل میں حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے لیکن قومی تفتیشی ادارے این آئی اے کے سربراہ ایس سی سنہا نے کہا کہ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ ای میل کس نے اور کہاں سے بھیجی ہے۔

بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ اس وقت بنگلہ دیش کے دورہ پر جہاں انہوں نے میڈیا سے بات چيت اس دھماکہ کو بزدلانہ کارروائی سے تعبیر کیا۔

انہوں نے کہا '' یہ دہشت گردوں کی جانب سے ایک بزدلانہ قدم ہے، ہم دہشتگردی کے سامنے جھکنے والے نہیں ہیں ہم اس کا سامنا کریں گے۔ یہ ایک طویل لڑائی ہے جس میں تمام بھارتیوں کو مل کر ایک ساتھ کھڑا ہونا پڑیگا۔''

دوسری جانب دلی ہائی کورٹ میں دھماکہ سے متعلق پارلیمان میں بیان دیتے ہوئے وزیرِداخلہ پی چدمبرم نے کہا کہ فی الحال یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس حملے کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا لیکن پولیس کو شبہہ ہے کہ بم ایک بریف کیس میں رکھا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ جولائی دو ہزار گیارہ میں دلی پولیس کو دہشت گردوں سے لاحق خطرات کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی تھی۔ لیکن انہوں نےاس کی مزید تفصیل نہیں بتائی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دلی ہائی کورٹ کو ہر طرف سے گھیرے میں لے لیا گیا ہے

پی چدمبرم نے کہا کہ قومی تفتیشی ایجنسی اور نیشنل سکیورٹی گارڈ کے دستوں نے تفتیش شروع کر دی ہے لیکن بنیادی طور پر تفتیش کی ذمہ داری این آئی اے سنبھالے گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایجنسی ممبئی میں سنہ دو ہزار آٹھ کے حملوں کے بعد دہشت گردی کی بڑی کارروائیوں کی تفتیش کے لیے تشکیل دی گئی تھی۔

حزبِ اختلاف کے رہنما لال کرشن اڈوانی نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت جلد سے جلد ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچائے گی انہوں نے متاثرین کے ساتھ اظہار ہمدردی اور یکجہتی کے لیے لوک سبھا کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا۔

مسٹر اڈوانی نے کہا کہ نائن الیون کے حملوں کو دس سال مکمل ہونے والے ہیں اور ابھی واضح تو نہیں لیکن شاید اس حملے کا تعلق اس سے بھی ہو سکتا ہے۔

دریں اثناء داخلہ سکریٹری آر کے سنگھ نے مرنے والوں کی تعداد کی تصدیق کر دی ہے۔

وزارتِ داخلہ کے ایک اہلکار یو کے بنسل کے مطابق دھماکہ درمیانی شدت کا تھا۔

سپیشل پولیس کمشنر دھرمندر کمار نے میڈیا کو بتایا کہ بم بظاہر ہائی کورٹ کے ایک مرکزی دروازے پر استقبالیے کےقریب بریف کیس میں رکھا گیا تھا۔

بم دھاکے کے زخمیوں میں سے زیادہ تر کو رام منوہر لوہیا ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

پولیس نے جائے وقوعہ کو گھیر لیا ہے اور آس پاس کے علاقے کو خالی کرا لیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ دلی ہائی کورٹ کے دروازے کے باہر پچیس مئی کو بھی ایک کم شدت کا دھماکہ ہوا تھا لیکن اس میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا تھا۔

ایک عینی شاہد نے بھارتی ٹی وی چینل سی این این آئی بی این کو بتایا کہ دھماکہ استقبالیے کے سامنے اس جگہ ہوا جہاں عدالت میں داخلے کے پاس جاری کیے جاتے ہیں۔

عینی شاید کے مطابق دھماکہ بہت طاقتور تھا جس کے بعد علاقے میں افرا تفری پھیل گئی۔ ہم نے کئی زحمیوں کو ہسپتل پہنچایا۔

عدالت کےباہر ایک نامعلوم وکیل نے بتایا کہ دھماکے کی آواز سماعت کو شل کر دینے والی تھی۔

وکیل کے مطابق ’میں نے سڑک پر خون اور لاشوں کے ٹکڑے دیکھے۔‘

اسی بارے میں