دلی دھماکہ: تین کشمیری حراست میں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دو مشتبہ افراد کے جاری کیے گئے خاکے دو عینی شاہدوں کے بیانات کی بنیاد پر تیار کیے گئے ہیں

بدھ کو نئی دلّی کی عدالتِ عالیہ کے باہر ہوئے بم دھماکے کے سلسلے میں بھارتی زیرِانتظام کشمیر میں پولیس نے پوچھ گچھ کے لیے ایک انٹرنیٹ کیفے کے مالک سمیت تین افراد کو حراست میں لیا ہے۔

اس دوران کورٹ کے احاطے میں ہوئے بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بارہ ہوگئي ہے۔ تقریبا پچھہتر زخمیوں کا اب بھی مختلف ہسپتالوں میں علاج ہو رہا ہے۔

پولیس کے مطابق بم دھماکے کی تفتیش کے دوران خفیہ اداروں نے پتہ لگایا ہے کہ شدت پسند تنظیم حرکت الجہاد الاسلامی نے حملے کی ذمہ داری سے متعلق دلّی کے میڈیا اداروں کو جس کمپیوٹر سے پیغام بھیجا تھا وہ جموں کے کشتواڑ ضلع میں قائم ایک انٹرنیٹ کیفے میں موجود ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ای میل بدھ کو دوپہر دو سے تین بجے کے درمیان بھیجا گیا تھا تاہم انٹرنیٹ کیفے کے مالک محمود عزیز اور ان کے دو ملازمین کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔

ایک پولیس اہلکار نے بتایا ہے کہ ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران محمود عزیز نے کہا ہے کہ ان کے کیفے میں اکثر کالج کے طلباء آتے ہیں اور بدھ کی دوپہر بھی ایک طالبِ علم کندھوں پر بستہ لادے ہوئے کیفے میں آیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عدالت کے آس پاس اب بھی سکیورٹی کا زبردست پہرہ ہے

واضح رہے کہ بھارتی وزارتِ داخلہ ملک بھر میں قائم تمام انٹرنیٹ مراکز کو صارفین کی تصاویر، فون نمبر اور دیگر تفصیلات محفوظ کرنے کی ہدایات پہلے ہی جاری کر چکی تھی۔

کشتواڑ پولیس کا کہنا ہے کہ محمود عزیز نے ایسا کوئی ریکارڑ اپنے یہاں نہیں رکھا ہے۔

دریں اثنا جموں کشمیر کے پولیس سربراہ کلدیپ کمار کھڈا اور خفیہ اداروں کے سربراہوں کا ایک وفد جمعرات کو کشتواڑ روانہ ہوا۔

قابل غور بات یہ ہے کہ بدھ کو میڈیا اداروں کو ملنے والے اس انٹرنیٹ پیغام میں تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ افضل گورو کو سنائی گئی پھانسی کی سزا واپس نہ لی گئی تو عدلیہ کے تمام اداروں کو نشانہ بنایا جائےگا۔

وزارتِ داخلہ نے محتاط ردِعمل میں کہا تھا کہ ای میل پر کوئی رائے قائم نہیں کی جائےگی لیکن باریک بینی سے جانچ ضرور ہوگی۔

دریں اثنا بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے بدھ کی رات دلی کے ایک ہسپتال میں کہا کہ دلی ہائی کورٹ کے احاطے کے باہر ہونے والے بم دھماکے کے بارے میں تفتیش کاروں نے کچھ معلومات اکٹھی کر لی ہیں۔

لیکن ان کا کہنا تھا کہ یہ تفتیش کے ابتدائی مرحلے ہیں اور فی الوقت یہ بتانا ممکن نہ ہوگا کہ اِس حلمے میں کونسا گروہ ملوث ہے۔

انھوں نے کہا ’ہمارے سکیورٹی کے نظام میں کمزوریاں ہیں جس کا فائدہ دہشت گرد اٹھا رہے ہیں۔ ہمیں ان کمزوریوں کو دور کرنا ہوگا۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے جسے ہمیں جیتنا ہو گا اور ہمیں اسے جیتیں گے۔‘

اِدھر کشمیر کی تمام علیٰحدگی پسند اور ہندنواز جماعتوں نے اس حملے کو دہشت گردی کا بہیمانہ مظاہرہ قرار دیا ہے۔

سّید علی گیلانی نے اپنے بیان میں کہا ’دہشت گردی کا یہ مظاہرہ دلّی میں ہو، پاکستان میں ہو یا کشمیر میں، یہ بہرحال قابل مذمت ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دلی کے کئی ہسپتالوں میں زخمیوں کا علاج چل رہا ہے

ان کا کہنا تھا ’جن لوگوں نے یہ حرکت کی ہے وہ فساد برپا کرنا چاہتے ہیں۔ سمجھوتہ ایکسپریس اور مالیگاؤں دھماکوں کی تفتیش کے بعد جو انکشافات ہوئے ہیں، ان کے تناظر میں ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ بدھ کے روز ہونے والے حملے میں کون ملوث تھا۔‘

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنماء محمد یٰسین ملک نے کہا ’انسانی جانوں اور شہری املاک کو نشنانہ بنانا بدترین دہشت گردی ہے۔ اس میں جو بھی ملوث ہے وہ انسانیت کا دشمن ہے۔‘

میر واعظ عمرفاروق اور شبیر احمد شاہ نے بھی دھماکے کی مذمت کی ہے۔

اسی بارے میں