ووٹ کے لیےکیش پر پارلیمان میں پھر ہنگامہ

لال کرشن اڈوانی
Image caption اڈوانی کا کہنا ہے کہ سٹنگ آپریشن ان کی نگرانی میں ہوا تھا

بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنماء لال کرشن اڈوانی نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے اراکینِ پارلیمان کی خرید و فروخت کا پردہ فاش کرنے کے لیے ’سٹنگ آپریشن‘ کی منظوری انہوں نے دی تھی تاہم پارٹی کے دو سابق ارارکینِ پارلیمان کی طرح انہیں بھی گرفتار کیا جانا چاہیے۔

پارلیمان میں کیش کا معاملہ سنہ دو ہزار آٹھ کا ہے جب اجلاس کے دوران بعض ارکان نے سپیکر کے سامنے بھاری رقم یہ کہکر پیش کی تھی کہ انہیں ووٹ کے لیے رشوت دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔

حکمراں جماعت کے زبردست ہنگامے کے درمیان جمعرات کو لوک سبھا میں بیان دیتے ہوئے لال کرشن اڈوانی نے کہا ’ بی جے پی کے جن اراکین کو گرفتار کیا گیا ہے انہوں نے جمہوریت کے لیے بڑی خدمت انجام دی ہے۔ جن لوگوں نے بے ایمانی کی اور حکومت کو ووٹ دیا وہ آرام سے بیٹھے ہیں، اور جنہوں نے جمہویت کی خدمت کی وہ جیل میں ہیں۔‘

یہ مبینہ سٹنگ آپریشن سنہ دو ہزار آٹھ میں اس وقت کیا گیا تھا جب سولین جوہری معاہدے کی مخالفت کرتے ہوئے بائیں بازو کی جماعتوں نے کانگریس کی قیادت والی حکومت سے حمایت واپس لے لی تھی اور حکومت کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا پڑا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ indian parliament
Image caption ارکان نے رشوت کی رقم سپیکر کے سامنے پیش کی تھی

الزام یہ ہے کہ سماجوادی پارٹی کے سابق رہنماء امر سنگھ نے بی جے پی کے اراکینِ پارلیمان کو خریدنے کی کوشش کی تھی۔ بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ اس کے اراکینِ پارلیمان بدعنوانی کا پردہ فاش کر رہے تھے اور اسی لیے امر سنگھ سے ملنے والے ایک کروڑ روپے لے کر لوک سبھا میں پہنچے تھے۔

لیکن پولیس کا دعویٰ ہے کہ رشوت لے کر اراکینِ پارلیمان نے بھی جرم کا ارتکاب کیا تھا۔ اس سلسلے میں دلی کی ایک عدالت نے امر سنگھ اور بی جے پی کے دو سابق اراکینِ پارلیمان کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا ہے۔

ایل کے اڈوانی کے سابق مشیر سدھیندر کولکرنی بھی اس معاملے میں ایک ملزم ہیں اور اس وقت وہ امریکہ میں ہیں۔ ان کی واپسی پر انہیں بھی گرفتار کیے جانے کی توقع ہے ۔

امر سنگھ پر الزام ہے کہ ارکانِ پارلیمان کو دی جانے والی رقم مبینہ طور پر ان کے یہاں سے آئی تھی۔ ایک موجودہ رکنِ پارلیمان کی گرفتاری بھی متوقع ہے۔

پولیس نے اس معاملے میں کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کے مشیر احمد پٹیل سے پوچھ گچھ کی تھی اور فردِ جرم میں کہا گیا ہے کہ ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا۔

اگرچہ کانگریس اور بی جے پی رشوت دہی کے اس معاملے میں ایک دوسرے پر الزام لگاتی رہی ہیں لیکن یہ پہلی مرتبہ ہے کہ لال کرشن اڈوانی نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اس پورے آپریشن کی اجازت خود انہوں نے دی تھی۔

حزبِ اختلاف کا الزام ہے کہ پردہ فاش کرنے والوں کو تو نشانہ بنایاجارہا ہے لیکن ووٹوں کی خرید و فروخت سے فائدہ اٹھانے والوں( کانگریس) کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔

یہ معاملہ اب بھی پر اسرار بنا ہوا ہے اور ابھی تک یہ بھی واضح نہیں ہے کہ رشوت کا پیسہ کس نے دیا تھا۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ایک ٹی وی چینل نے رشوت دہی کے اس معاملے کی خفیہ ریکارڈنگ کی تھی۔ لیکن اس واقعے کے کچھ ہی دنوں بعد یہ پس منظر میں چلا گيا۔ چند ہفتے قبل جب سپریم کورٹ نے دلی پولیس کی سر زنش کی اور اس معاملے کی تفتیش کی رپورٹ مانگی تو ایک بار پھر پولیس حرکت میں آئی اور بعض افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔

اسی بارے میں