’بھارتی دہشتگرد ملک کے لیے بڑا چیلنج‘

پی چدامبرم
Image caption بھارتی وزیرداخلہ بی بی سی سے خصوصی بات کر رہے تھے

بھارت کے وزیر داخلہ پی چدامبرم نے کہا ہے کہ بھارت میں دہشتگردی کےگزشتہ کئی اہم واقعات میں بھارتی دہشتگرد تنطیمیں ملوث رہی ہیں اور ان تنطیموں کا وجود ملک کے لیے گہری تشویش کا باعث ہے۔

امریکہ پر 9/11 کے حملے کی برسی کے موقع پر بی بی سے بات کرتے ہوئے مسٹر چدامبرم نے کہا کہ دلی ہائی کورٹ کے احاطے کے باہر ہونے والے بم دھماکے کی ابھی تفتیش چل رہی ہے اور ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ لیکن اس سے قبل پونے ممبئی اوردلی کی تین دھماکوں میں بلا شبہہ بھارت کی دہشت گرد تنطیمین ملوث تھیں۔

ان کا کہنا تھا '' اب ہم بھارت میں حملوں کو ہمیشہ سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی سے منسوب نہیں کر سکتے۔ یہ خطرہ موجود ہے۔ لیکن اب ہمیں بھارت میں موجود تنظیموں پر نظر رکھنی ہوگی جو اس طرح کے حملے کرنے کی اہلیت رکھتی ہیں۔''

انہوں نے کہا کہ جہاں تک سرحد پار سے دہشتگردی کا سوال ہے بھارت کو پاکستان پر دباؤ بدستور قائم رکھنا ہوگا تاکہ وہ اپنی سر زمین پر ان سرگرمیوں پر قابو رکھے لیکن اب چونکہ بھارت میں مقامی دہشتگرد تنطیمیں وجود میں ہیں اس لیے ان کا پتہ لگانا ہوگا اور انہیں تباہ کرنا ہوگا۔ لیکن اس کے لیے سکیورٹی فورسز کی صلاحیت میں زبردست اضافہ کرنا ہوگا۔

بھارت کے وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان دہشتگردی کا محور ہیں اور اگر وہاں موجود دہشت گرد تنظیموں کو تباہ کرنے کے لیے کوئی فورس نہ رہی تو یہ تنطیمیں اور زیادہ جارح اور متحرک ہو جائیں گی اور یہ بہت آسانی سےاپنی توجہ بھارت کی طرف منتقل کر سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا '' یہاں بھارت میں ایسے عناصر موجود ہیں جو پاکستان اور افغانستان کے دہشت گردوں سے ہاتھ ملا سکتے ہیں۔ ہمیں اس پہلو پر تشویش ہے۔''

Image caption پاکستان کے ساتھ انٹیلی جنس کی شراکت ابھی نہیں ہے

پاکستان سے خفیہ معلومات کے تبادلے کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ ابھی تعاون کے اس مرحلے پر نہیں پہنچے ہیں جہاں بھارت پاکستان کے ساتھ خفیہ معلومات کا تبادلہ کرے یا پاکستان سے معلومات حاصل کرنے کی توقع کی جا سکے۔

ان کے بقول '' پاکستان کے اندر کچھ عناصر بدستور نام نہاد غیر ریاستی عناصر کی حمایت کر رہے ہیں۔ اس صورتحال میں ہم یہ کیسے توقع کر سکتے ہیں کہ پاکستان ہمارے ساتھ صحیح معنوں میں خفیہ معلومات کا تبادلہ کر سکےگا۔''

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ القاعدہ کے سربراہ کی ہلاکت سے بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم کا نیٹ ورک نہیں کمزور ہوا ہے اور اسے صرف عارضی نقصان پہنچا ہے۔

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں حالیہ سرد مہری کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تعلقات میں اس تلخی کا اثر بھارت بھی محسوس کر رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کے بعض عناصر نے بھارت پاک سرحد پر تناؤ پیدہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

پی چدامبرم نے کہا ’مجھے نہیں معلوم کہ اس کے پیچھے مقصد کیا ہے لیکن سرحد پر حالات اتنے پر سکون نہیں ہیں جتنے چند مہینے قبل تک تھے۔ حقیقت یہ کہ سرحد پر اس وقت تناؤ ہے۔‘

انہوں نے خدشہ طاہر کیا ہے کہ اگر بھارت میں نوجوان بڑی تعداد میں شدت پسندی کی طرف مائل ہوتے ہیں تو یہ ملک کے سامنے بہت بڑا چیلنج ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو صرف سکیورٹی کے انتظامات سے ریڈیکلائزیشن سے نہیں روکا جاسکتا۔ اس مسئلے کا سامنا ایک وسیع تناظر میں کرنا ہوگا۔

اسی بارے میں