’کوئی بھی مذہب قتل کی اجازت نہیں دیتا‘

Image caption افضل گرو کا کہنا ہے کہ کوئی بھی مذہب خون خرابے کی اجازت نہیں دیتا

بھارت کی پارلیمنٹ پر حملے کے جرم میں موت کی سزا پانے والے افضل گرو نے دلی ہائی کورٹ کے باہر بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے اپیل کی ہے کہ اس طرح کی بر بریت کے واقعہ سے انہیں الگ رکھا جائے ۔

دلی کی تہاڑ جیل سے لکھے گئے ایک خط میں افضل گرو نے کہا ہے کہ ہائی کورٹ پر بہیمانہ اور وحشیانہ حملے کا ارتکاب جرائم پیشہ اور سماج دشمن عناصر نے کیا ہے۔ ’یہ ایک بزدلانہ فعل ہے اور سب ہی کو اس کی مذمت کرنی چاہیے کوئی بھی مذہب معصوم لوگوں کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دیتا‘۔

اپنے وکیل این ڈی پنچولی کے ذریعے بی بی سی کو بھیجے گئے ہاتھ سے لکھے اس خط میں افضل گرو نے کہا ہے کہ اس دھماکے میں ان کا نام غیر ضروری طور پر لیا جا رہا ہے ۔

انہوں نے لکھا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب بعض شر پسند عناصر اور تنظیمیں اس طرح کی وحشیانہ حرکتوں سے ان کا نام جوڑنےکی کوشش کر رہی ہیں۔’یہ معمول کی بات بن چکی ہے کہ جب بھی اس طرح کا کوئی بم دھماکہ ہو تا ہے، میرا نام اس سے منسوب کر دیا جاتا ہے تاکہ میرے خلاف رائے عامہ ہموار کی جا سکے‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption افضل گرو نے یہ خط جیل سے لکھا ہے

گزشتہ بدھ کے دھماکے کے بعد شدت پسند تنطیم حر کت الجہاد اسلامی سے منسوب ایک ای میل میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ دھماکہ اس تنظیم نے کیا ہے اور اس میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا تھا کہ افضل گرو کی موت کی سزا واپس لی جائے ۔اس ای میل کی سچائی کی ابھی تک تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

افضل گرو کے وکیل این ڈی پنچولی نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا ’اس میں کو ئی شک نہیں کہ پارلیمنٹ پر حملہ ایک سنگین جرم تھا اور اس کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی جانی چاہئیے۔ لیکن جرم کے اس واقعہ کی جس طرح تفتیش کی گئی ہے اور ملزموں کو میڈیا نے سماعت سے پہلے ہی جس طرح مجرم قرار دیا ہے اس نے بہت سے سوالوں کو جنم دیا ہے۔

این ڈی پنچولی نے کہا کہ کہ اگر کوئی شخص افضل گرو کا موقف سامنے رکھنے کی کوشش کرتا ہے تو میڈیا اسے ہند مخالف قرار دیتا ہے۔

افضل گرو کے لیے رحم کی درخواست کرتے ہوئے مسٹر پنچولی نے کہا ہے کہ افضل گرو کو کبھی بھی انصاف نہیں ملا ۔ سماعت کے دوران انہیں اپنی مرضی کا وکیل نہیں ملا کیونکہ جس طرح کا ماحول تھا اس میں کوئی بھی وکیل ان کا کیس لڑنے کے لیے تیار نہیں تھا۔

پنچولی نے کہا ہے کہ خود پولیس کی فردِ جرم کے مطابق پارلیمنٹ پر حملے کے پیچھے جو اصل لوگ ہیں وہ پاکستان میں ہیں اور جو لوگ حقیقتاً اس حملے میں ملوث تھے وہ مارے جا چکے ہیں۔ اس لیے اگر افضل اس سازش کا حصہ تھا بھی تو بھی اسے پھانسی نہیں دی جانی چاہیے کیونکہ نہ تو اس نے یہ سازش تیار کی تھی اور نہ ہی اس نے حملے میں حصہ لیا۔

افضل گرو تہاڑ جیل میں قید ہیں انہوں نے اپنی سزائے موت پر علمدرآمد روکنے کے لیے صدرِ مملکت سے رحم کی درخواست کی ہے۔

دوسری جانب بھارتی حکومت نے صدر کو مشورہ دیا ہے کہ وہ رحم کی درخواست مسترد کر دیں۔ بھارتی صدر نے اس بارے میں ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے ۔ تاہم ان کا فیصلہ کسی بھی روز متوقع ہے۔

اسی بارے میں