مذہبی تشدد روکنے کے بل کی مخالفت

ہندوستان میں فرقہ وارانہ فسادات کی ایک فائل فوٹو
Image caption کومینل بل مذہبی تشدد کی روک تھام کے لیے بنایا جارہا ہے

بھارت میں مذہبی تشدد کی روک تھام کے لیے ایک سخت قانون وضع کرنے کی کوششوں کو دھچکہ پہنچا ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے علاوہ خود حکومت کی اتحادی جماعت ترنمول کانگریس نے بھی مجوزہ قانون کی مخالفت کی ہے۔

اس مجوزہ قانون پر غوروخوض کے لیے حکومت نے دلی میں قومی یکجہتی کونسل کا اجلاس طلب کیا تھا جس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم من موہن سنگھ نے کہا ہے کہ ملک میں ’افسوسناک واقعات‘ کے بعد اقلیتیں اکثر یہ محسوس کرتی ہیں کہ انہیں بے وجہ نشانہ بنایا جارہا ہے۔

لیکن اجلاس میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے مجوزہ قانون کو ’خطرناک‘ بتاتے ہوئے اس کی سخت مخالفت کی جبکہ خود حکمراں یو پی اے میں شامل ترنمول کانگریس کی سربراہ اور مغربی بنگال کی وزیر اعلٰی ممتا بنرجی سمیت سات وزراء اعلٰی نے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔

ترنموں کانگریس کے نمائندے اور ریلوے کے وزیر دنیش ترویدی نے کہا کہ موجودہ شکل میں ان کی پارٹی کو یہ بل منظور نہیں ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اس تاثر کو دور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ قانون کو بلا روک ٹوک اپنا کام کرنے دیا جائے اور تفتیش کرنے والے ادارے بھی بلا تعصب اپنے فرائض انجام دیں۔

’یہ بہت اطمینان کی بات ہے کہ حالیہ برسوں میں مختلف فرقوں کے درمیان عام طور پر تعلقات خوشگوار رہے ہیں اور قومی یکجہتی کونسل کے ارکان نے اس سمت میں اہم کردار ادا کیا ہے کہ لوگ ایسے واقعات کے بعد سمجھداری سے کام لیں جن سے مذہبی جذبات بھڑک سکتے ہیں‘

لیکن انہوں نے کہا کہ ’اس کے باوجود مستقل نگرانی برتنے کی ضرورت ہے اور ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ افسوسناک واقعات کے بعد اقلیتی فرقے اس تاثر کا شکار رہتے ہیں کہ تفتیشی ادارے انہیں بے وجہ نشانہ بنا رہے ہیں۔'

’بدھ کو دلی میں ہونے والے بم دھماکے سے پھر ہمیں یہ واضح پیغام ملا ہے کہ ہم نگرانی میں کوتاہی نہیں کرسکتے۔۔۔اس کونسل کو یہ واضح پیغام دینا چاہیے کہ تشدد کا کوئی جواز نہیں ہوسکتا۔'

ملک میں حال ہی میں دہشت گردی کے کئی ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جن کے سلسلے میں پہلے مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا تھا لیکن جن کے بارے میں اب پولیس کا دعویٰ ہے کہ وہ ہندو شدت پسندوں نے انجام دیے تھے۔

اس بل کا مقصد ملک میں مذہبی تشدد کو قابو کرنا ہے جس کے لیے اقلیتوں کو نشانہ بنانے والوں کو زیادہ سخت سزائیں دینے اور ان واقعات کے لیے ریاستی حکومتوں اور اہلکاروں کو ذمہ دار ٹھہرانے کی تجویز رکھی گئی ہے۔

اگرچہ حکومت کی کوشش یہ تھی کہ تمام سیاسی جماعتوں کو اس بل کی حمایت کرنے پر مائل کیا جائے لیکن بھارتیہ جنتا نے اس کی سخت الفاظ میں مخالفت کی۔

پارٹی کی سینئر لیڈر سشما سوراج نے کہا کہ ’وفاقی اور ریاستی حکومتوں کے تعلقات کے لحاظ سے یہ بہت خطرناک بل ہے۔ یہ بل ملک کے ہر شہری کو اقلیت اور اکثریت میں تقسیم کر رہا ہے اور ساتھ ہی یہ اعلان کر رہا ہے کہ اکثریتی فرقے سے تعلق رکھنے والا ہر شخص ظالم اور اقلیتوں سے تعلق رکھنے والا ہر شخص مظلوم ہے۔ یہ بل پارلیمان میں پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔‘

اسی بارے میں