نریندر مودی کا کھانے سے اجتناب

Image caption دو ہزار دو کے بعد گجرات نے امن، ہم آہنگی اور ترقی کی راہ پر آگے بڑھنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی ہے: نریندر مودی

بھارتیہ جنتا پارٹی کے متنازعہ رہنماء اور گجرات کے وزیرِاعلی نریندر مودی نے ’سماجی ہم آہنگی اور بھائی چارے‘ کو فروغ دینے کے لیے تین دن تک ’اپواس‘ کرنے یعنی کھانے سے گریز کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس سے پہلے بھارت کی سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ گجرات کے فسادات کےسلِسلے میں نریندر مودی پر مقدمہ چلانے یا نہ چلانے کا فیصلہ ذیلی عدالت کرے گی اور عدالتِ عظمی تفتیش کی مزید نگرانی نہیں کرے گی۔

عدالت نے یہ حکم کانگریس کے ایک سابق رکنِ پارلیمان احسان جعفری کی بیوہ ذکیہ جعفری کی درخواست پر دیا تھا۔ ذکیہ جعفری کا الزام ہے کہ گجرات کے فسادات کے دوران جب ایک ہجوم ان کےگھر پر حملہ کر رہا تھا تو ان کے شوہر نے وزیرِاعلی سمیت کئی سرکردہ اہلکاروں سے فون کر کے مدد مانگی تھی لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی اور ان کے شوہر سمیت ساٹھ سے زیادہ لوگوں کو زندہ جلا دیا گیا۔ لہذا نریندر مودی کو بھی اس کیس میں ملزم بنایا جائے۔

نریندر مودی اور بی جے پی کے دیگر رہنماء سپریم کورٹ کے حکم کو اپنی بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں اور اس کے بعد سے یہ قیاس آرائی تیز ہوگئی ہے کہ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی میں قومی سطح پر زیادہ بڑا کردار ادا کرنے کی کوشش کریں گے۔

منگل کو جاری کیے جانےوالے ایک خط میں نریندر مودی نے کہا ’سپریم کورٹ کے فیصلے سے ایک بات واضح ہے اور وہ یہ کہ سنہ دو ہزار دو کے فسادات کے بعد میرے اور میری حکومت کے خلاف جو بے بنیاد الزامات لگائے گئے تھے ان سے پیدا ہونے والا غیر صحت مند ماحول ختم ہوگیا ہے۔ گزشتہ دس برسوں سے مجھے اور گجرات کو بدنام کرنا ایک فیشن بن گیا تھا لیکن اب ان لوگوں کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے جو میرے بارے میں جھوٹی باتیں پھیلاتے رہے ہیں۔‘

Image caption نریندر مودی اور بی جے پی کے دیگر رہنماء سپریم کورٹ کے حکم کو اپنی بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں

لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت نے صرف مقدمے کی سماعت ذیلی عدالت کو منتقل کی ہے جس کے سامنے سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ خصوصی تفتیشی ٹیم اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے یہ حکم بھی دیا ہے کہ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے ذکیہ جعفری کا موقف بھی سنا جائے۔

نریندر مودی کو کئی سنگین الزامات کا سامنا ہے۔ فرضی مڈبھیڑ کے ایک کیس میں ان کے قریبی معتمد اور سابق وزیرِداخلہ امت شاہ اور کئی سرکردہ پولیس افسران پر مقدمہ چل رہا ہے جبکہ ایک دیگر سابق وزیرِداخلہ ہرین پانڈیا کے قتل کے سلسلے میں بھی ان پر انگلی اٹھائی گئی ہے لیکن وہ اِن الزامات سے انکار کرتے ہیں۔

اپنے خط میں انہوں نے کہا ’دو ہزار دو کے بعد گجرات نے امن، ہم آہنگی اور ترقی کی راہ پر آگے بڑھنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی ہے اور اب سماجی ہم آہنگی کو مستحکم کرنے کے لیے میں ایک تحریک شروع کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔‘

گجرات میں سنہ دو ہزار دو میں بڑے پیمانے پر مذہبی فسادات ہوئے تھے جن میں بڑی تعداد میں مسلمان مارے گئے تھے۔ نریندر مودی کی حکومت پر اکثر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ انہوں نے فسادات کو روکنے کے لیے خاطر خواہ کارروائی نہیں کی تھی لیکن مودی اس الزام کو مسترد کرتے ہیں۔ ریاست کے ایک سینئر پولیس اہلکار نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کرکے کہا ہے کہ نریندر مودی نے جان بوجھ کر فسادات کو روکنے میں تاخیر کی تھی۔

اپنے خط میں مودی نے کہا ’اپنی تحریک کے دوران میں نے سنیچر سترہ ستمبر سے تین روز تک کچھ نہ کھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس اپواس سے گجرات میں امن، اتحاد اور ہم آہنگی کو فروغ حاصل ہوگا۔‘

بھارت کی کئی ریاستوں میں آئندہ برس ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات ہونے والے ہیں جس کی وجہ سے ملک میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ اسی پس منظر میں بی جے پی کے سینئر رہنماء لال کرشن اڈوانی نے بھی بدعنوانی کے خلاف ایک رتھ یاترا نکالنے کا اعلان کیا ہے جس کے پروگرام کو حتمی شکل دی جارہی ہے۔

بی جے پی کا ایک حلقہ نریندر مودی کو وزیرِاعلی کے عہدے پر دیکھنا چاہتا ہے لیکن ان کی متنازعہ شخصیت کی وجہ سے جنتا دل یونائٹڈ جیسی بی جے پی کی اتحادی جماعتیں بھی ان سے دور رہتی ہیں۔ تاہم بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ نریندر مودی اب قومی سطح پر زیادہ سرگرم ہونے کی کوشش کریں گے اور یہ اعلان اس سمت میں پہلا قدم ہے۔

اسی بارے میں