تیلنگانہ کے لیے ہڑتال سے عام زندگی متاثر

فائل فوٹو
Image caption ہڑتال کے سبب سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں

بھارتی ریاست آندھرا پردیش میں تیلنگانہ کے نام سے علیحدہ ریاست کے مطالبے کے حق میں منگل کے روز سے غیر معینہ مدت کے لیے عام ہڑتال شروع کردی گئی ہے۔

اس عام ہڑتال میں بیشتر سرکاری ملازمین بھی حصہ لے رہے ہیں جس سے سرکاری مشینری ٹھپ ہو کرگئی ہے۔

اس ہڑتال کی کال تیلنگانہ کی حامی سنگھرش سمیتی اور تیلنگانہ راشٹر سمیتی جیسی تنظیموں نے دی ہے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ ہڑتال میں آندھر پردیش کے ان دس اضلاع کے افراد حصہ لے رہے ہیں جو تیلنگانہ کے علاقے میں آتے ہیں۔

ایک بیان کے مطابق ہڑتال میں اس علاقے کے نہ صرف سب ہی طبقے کے سرکاری ملازمین حصہ لے رہے ہیں بلکہ کوئلے کی کانوں کے مزدور، محکمہ توانائي کے ورکرز اور گاؤں کے باسی بھی شامل ہیں۔

اس ہڑتال سے پہلے پیر کے روز کریم نگر ضلع میں ایک زبردست ریلی منعقد کی گئي جس میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی تھی۔ ریلی میں تیلنگانہ کے حامی رہنماؤں نے تمام دس اضلاع میں ہڑتال کے دوران راستہ روکنے اور ریلیاں نکالنے کو کہا تھا۔

Image caption تیلنگانہ کے لیے کافی دنوں سے احتجاج ہوتا رہا ہے

تیلنگانہ کی حامی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ہڑتال کے دوران نہ صرف سرکاری دفاتر، سکول اور ادارے بند ہیں بلکہ نجی سکول کالجز اور دیگر ادارے بھی اس میں حصہ لے رہے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ بدھ اور جمعرات کے روز اس علاقے کے تمام سنیما گھر بھی بند رہیں گے۔

ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ اگر سرکاری ملازمین کام پر واپس نہیں آئے تو قانون کے مطابق ان کے خلاف کارروائی کی جائےگی اور انہیں گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے۔

لیکن تیلنگانہ راشٹریہ سمتی کے صدر چندر شیکھر راؤ نے کہا ہے کہ اگر کسی بھی شخص کو گرفتار کیا گیا تو تیلنگانہ کا پورا علاقہ بھڑک اٹھے گا اور پھر اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگي۔

شیکھر راؤ کا کہنا ہے کہ تیلنگانہ کے علاقے کے لوگوں کا صبر اب ختم ہوچکا ہے اور وہ ناراض ہیں۔ وہ حکومت سے صرف اپنا وہ وعدہ پورا کرنے کو کہہ رہے ہیں جس میں اس نے علحیدہ تیلنگانہ ریاست بنانے کی بات کہی تھی۔

ریاست آندھر پردیش میں تیلنگانہ کے حامی دارالحکومت حیدرآباد اور اس کے آس پاس کے دس اضلع پر مشتمل علاقے میں ایک الگ ریاست کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اگرچہ یہ مطالبہ کافی پرانا ہے لیکن کافی احتجاج کے بعد مرکزی حکومت نے علحیدہ ریاست بنانے کا وعدہ کیا تھا۔

تاہم کئی برس گزرنے کے بعد بھی اس سمت میں اب تک کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی ہے اور اسی لیے ایک بار پھر احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں