بھارت میں افراط زر کی شرح میں اضافہ

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اشیاء خوردنی مسلسل مہنگی ہورہی ہیں

بھارت میں حکام کا کہنا ہے کہ افراظ زر کی شرح نواعشاریہ اٹھہتر فیصد تک پہنچ گئی ہے جو گزشتہ ایک برس میں سب سے زیادہ ہے۔

افراط زرکی شرح میں اضافہ ، غذائی اشیاء، ایندھن اور کمپنیوں میں تیار شدہ اشیاء کی قیمتیں بڑھنے سے ہوا ہے۔

ہندوستان میں عام اشیاء کی قیمتوں میں مستقل اضافہ ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے جسے کم کرنے کی کوشش کے تحت ریزرو بینک آف انڈیا نے گزشتہ اٹھارہ مہینوں میں گیارہ مرتبہ سود کی شرحوں میں اضافہ کیا ہے۔

لیکن اس کے باوجود ایک سینیئر سرکاری مشیر کا کہنا ہے کہ تمام کوششوں کے باوجود اس برس افراط زر کی شرح نو اور دس فیصد کے درمیان ہی رہے گی۔

ابھی یہ خوف بنا ہوا ہے کہ شاید ریزرو بینک آف انڈیا اس پر قابو پانے کے لیے سود کی شرح میں اضافہ کریگی۔ واضح رہے کہ سود کی شرح میں اضافے سے بھارتی معیشت کی ترقی کی رفتار سست ہوئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بینک اس وقت بڑھتی قیمتوں اور اس گرتی معیشت کے درمیان بڑی عجیب صورت حال میں مبتلا ہے۔

حکومت نے رواں سال میں آٹھ اعشاریہ پانچ فیصد معیشت کی ترقی کا تخمینہ رکھا ہے لیکن سود کی شرح میں اضافہ سے وہ پورا ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشی ترقی برآمدات میں کمی سے بھی متاثر ہوسکتی ہے کیونکہ عالمی کساد بازاری سے باہری ملکوں کو مال کی سپلائی میں کمی کا امکان ہے۔

اسی بارے میں