افضل گرو کی پھانسی کے خلاف قرار داد

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کشمیر اسبملی کا اجلاس ہنگامہ خیز ہونے کی توقع ہے

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں ہندنواز سیاست میں پھر ایک بار علیٰحدگی پسند مزاج کا مظاہرہ ہورہا ہے اور اس ماہ کے آخر میں کشمیر کی ستاسی رکنی قانون ساز اسمبلی کا جو اجلاس ہوگا اس میں دو اہم متنازعہ معاملات زیرِ بحث آئیں گے۔

بھارتی پارلیمان پر حملے کی سازش میں قصوروار پائےگئے افضل گورو کی پھانسی کے خلاف ممبراسمبلی انجینئیر عبدالرشید نے ایک قرارداد داخل کی ہے جس پر شدید بحث کا امکان ہے۔

حزب اختلاف پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے ایم ایل اے نظام الدین بٹ نے بھی ایک پرائیویٹ ممبر بل لانے کا اعلان کردیا ہے۔ اس بل میں وہ مقامی آئین کی بعض ایسی شقوں میں ترمیم کا مطالبہ کرتے ہیں جن میں یہ لکھا ہے کہ ’جموں کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔‘'

اس سال کے آغاز میں جب اسمبلی سے خطاب کے دوران وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے کہا تھا کہ جموں کشمیر کا بھارت کے ساتھ الحاق ہوا ہے ادغام نہیں، تو پورے ملک میں بی جے پی نے ہنگامہ پرپا کردیا تھا۔

کانگریس پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ علیٰحدگی پسندوں کی پشت پناہی کررہی ہے۔ نیشنل کانفرنس اب تذبذب کا شکار ہے کہ وہ ان معاملوں میں کس طرف رہے۔ اگر وہ ان قراردادوں کی کھل کر حمایت کرتی ہے تو حکومت میں اس کی شریک کانگریس کے ساتھ تعلقات بگڑ سکتے ہیں۔ اور اگر اس میں خاموشی اختیار کرے تو یہ کشمیر میں ایک منفی اثر مرتب کرےگا۔

نظام الدین کہتے ہیں: ’وزیراعظم منموہن سنگھ اور ملک کے سبھی رہنما کہتے ہیں مسئلہ کشمیر حل کرو۔ اگر مسلہ حل کرنا ہے تو اس کے حل کی خاطر راہ ہموار بھی کرنی ہے۔ اور میں نے کشمیر کے آئین میں ان اہم ترامیم کی بات کرکے اُن روکاوٹوں کو دور کرنے کی کوشش کی ہے، جو مسئلہ کشمیر کے حل میں حائل ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بھارت کے خلاف کشمیری مظاہرہ کرتے ہیں

دریں اثنا جموں میں مقیم اپوزیشن پارٹیوں بی جے پی اور پینتھرس پارٹی نے افضل گورو اور جموں کشمیر کی آئینی پوزیشن کے بارے میں قراردادوں یا بلوں کے خلاف پہلے ہی کمرکس لی ہے۔

بی جے پی کے سینیئر رہنما اشوک کھجوریہ کہتے ہیں: ’پارلیمنٹ پر حملہ کرنے والوں کو معافی دلوانے کے لیے ہم اسمبلی کا ناجائز استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ اور پھر جموں کشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے۔ سترہ سال قبل پارلیمنٹ میں قرار داد کے ذریعہ ملک نے اس کی توثیق کی ہے۔ اس پر بھی ہم بحث نہیں ہونے دیں گے۔‘

قابل ذکر ہے کہ حکمران نیشنل کانفرنس اور اپوزیشن پی ڈی پی کے ایوان میں کل ملا کر انچاس ممبران ہیں۔ افضل گورو سے متعلق قرارداد کے لیے تو محض چوالیس ممبروں کی حمایت درکار ہے، لیکن آئین میں ترمیم کا معاملہ مختلف ہے۔

معروف قانون داں سید تصدق حسین کہتے ہیں: ’امریکہ کے آئین میں یہ گنجائیش ہے کہ کوئی ریاست اگر وفاق سے الگ خودمختار نظام ترتیب دے تو وہ ایسا کرسکتی ہے۔ بھارتی آئین میں یہ گنجایش نہیں۔ آپ کہتے ہیں آئین سے سیکشن پانچ حذف کرلو، اس کا مطلب ہے آپ کہتے ہیں جموں کشمیر بھارت کا حصہ نہیں۔ حکومت ہند یہ نہیں ہونے دے گی۔‘

قابل ذکر ہے کہ دو ہزار آٹھ کے انتخابات سے قبل علیٰحدگی پسندوں کی مخالفتوں کو کم کرنے کے لیے نیشنل کانفرنس کے رہنما عمرعبداللہ کہتے تھے کہ کشمیر کی اسمبلی مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لیے نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد لوگوں کے روزمرہ مسائل حل کرنا ہے۔

اس بیان کو انہوں نے انتخابی مہم میں متعدد بار دوہرایا تھا۔ لیکن انہوں نے گزشتہ اجلاس میں اسمبلی کے ہی ایوان میں تقریر کرتے ہوئے حکومت ہند سے کہا کہ جموں کشمیر بھارتی وفاق کا مستقل حصہ نہیں بلکہ یہ ریاست مشروط الحاق کی بنا پر اس ملک کے ساتھ ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ پچھلے تین سال کے دوران علیٰحدگی پسند مظاہروں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کی وجہ سے ہندنواز گروپوں کی عوامی اعتباریت متاثر ہوئی ہے اور اب وہ دوبارہ عوامی مقبولیت کے دائرے میں آنا چاہتے ہیں۔

اکثر جائزہ نگاروں کا خیال ہے کہ شیخ محمد عبداللہ کو خودمختاری کا مطالبہ کرنے پر بائیس سال کی قید ہوئی تھی اور ان کے بیٹے کو یہی مطالبہ دوہرانے پر اقتدار سے الگ کردیا گیا۔

دلچسپ امر ہے کہ آج شیخ عبداللہ کا پوتا اور فاروق عبداللہ کا بیٹا جموں کشمیر کا وزیراعلیٰ ہے، لیکن خودمختاری کا مطالبہ اپوزیشن پارٹیاں کررہی ہیں۔

اسی بارے میں