’پاکستان، افغانستان دہشتگردی کا محور‘

پی چدامبرم
Image caption چدامبرم کے بعض بیانات پر نکتہ چینی ہوئي ہے

بھارت کے وزیر داخلہ پی چدامبرم نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان بدستور دہشتگردی کا محور بنے ہوئے ہیں اور ہمسایہ ملک سے سرگرم کئی دہشتگرد تنظیمیں بھارت کو نقصان پہنچانے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہیں۔

نامہ نگار سہیل حلیم کے مطابق وزیر داخلہ نے دلّی میں سرکردہ پولیس افسران کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پانچ بڑی دہشت گرد تنظیموں میں سے چار پاکستان کی سرزمین سے سرگرم ہیں اور ان میں سے تین، لشکر طیبہ، حزب المجاہدین اور جیش محمد، بھارت کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

پی چدممبرم نے کہا کہ ممبئی اور دلی کے بم دھماکے ’ہمارے ریکارڈ پر بدنما داغ ہیں اور یہ کہ دہشتگردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت ہے۔‘

اس سے پہلے منگل کو وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ ملک میں ماؤ نواز باغیوں کی پرتشدد سرگرمیاں دہشت گردی سے کہیں بڑا مسئلہ ہیں۔ لیکن حزب اختلاف اور میڈیا نے ان کے اس دعوے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ دہشت گردوں کی کارروائیوں کو روکنے میں اپنی ناکامی سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ممبئی اور دلی کے بم دھماکوں میں ابھی تک کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہو سکی ہے حالانکہ حکومت نے سراغ فراہم کرنے والوں کے لیے انعام کی رقم پانچ لاکھ سے بڑھا کر دس لاکھ روپے کر دی ہے۔

اسی پس منظر میں انہوں نے کہا کہ ’ ظاہر ہے کہ ان دو حملوں کی وجہ سے وفاقی حکومت اور سکیورٹی فورسز پر سخت تنقید کی گئی ہے، ہم ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ لیکن دہشت گردی کی کارروائیوں کا سیاق و سباق پیش کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ جموں و کشمیر میں لائن آف کنٹرول سے دراندازی کے واقعات میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔

بھارت کے اندر سرگرم شدت پسند تنظیموں کو ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ تنظیمیں ریڈیکل نوجوانوں کو اپنی جانب راغب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور ان میں سےکچھ نے بم بنانے کی صلاحیت حاصل کرلی ہے۔

پی چدمبرم پہلے بھی کئی مربتہ یہ کہہ چکے ہیں کہ دہشتگردی کے حملوں کے لیے اب صرف پاکستان کی طرف انگلی نہیں اٹھائی جا سکتی کیونکہ ملک کے اندر بھی انڈین مجاہدین جیسی شدت پسند تنظیمیں موجود ہیں۔

انھوں نے کہا کہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے ابھی بہت کچھ کیا جانا باقی ہے لیکن کام جاری ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ریاستی پولیس فورسز میں اب بھی پانچ لاکھ اہلکاروں کی کمی ہے۔ ہمیں مالی اور انسانی وسائل کی کمی کا سامنا ہے، رواں مالی سال میں داخلی سلامتی پر وفاقی اور ریاستی حکومتیں ایک لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ رقم خرچ کریں گی جبکہ ہم دفاع پر ایک لاکھ چونسٹھ ہزار کروڑ روپے خرچ کرتے ہیں، ظاہر ہے کہ ہمیں پولیس فورسز پر زیادہ پیسہ خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔‘

اسی بارے میں