راجستھان، فرقہ وارنہ جھڑپ میں متعدد ہلاک

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بھارت کے کئی علاقوں میں ہندو مسلم فسادات ہوتے رہتے ہیں

بھارت کی ریاست راجستھان کے بھرت پور میں قبرستان کی اراضی کے تنازعہ پر دو فرقوں کے درمیان تصادم کے نتیجہ میں متعدد افراد ہلاک اور دو درجن کے قریب زخمی بھی ہوئے ہیں۔

پولیس کے مطابق جھڑپیں ہندو برادری کےگوجروں اور مسلمانوں کے درمیان ہوئی ہیں۔

اس واقعے کے بعد بھرت پور کے ساتھ تھانوں میں غیر معینہ مدت کا کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔ دونوں طرف سے فائرنگ کے تبادلے میں اکیس افراد زخمی بھی ہوئے۔

بھرت پور میں گوپال گڑھ کے پولیس سپریٹنڈنٹ ہینگ لاج دان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ بدھ کی رات کو قبرستان کی زمین کے حوالے سے دو نوں فرقوں کے درمیان تناؤ پیدا ہوگیا اور وہ جوش میں سڑکوں پر نکل کے ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہوگئے۔

ان کا کہنا تھا ’اس صورت حال میں پولیس نے دونوں فرقوں کے افراد کو تھانے میں بلا کر بات چیت کی کوشش کی لیکن اس دوران ان میں آپس میں اندھا دھند گولیاں چلنی شروع ہوگئیں۔ دونوں جانب سے اندھا دھند گولیاں چلائی جا رہی تھیں اور پولیس کو اس وقت بڑی مشکل صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔‘

ایک پولیس افسر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ابتدائی اطلاع کے بعد پولیس اہلکار وہاں بغیر ہتھیار کے پہنچ گئے تھے اور لوگوں کے ‎سخت رویے کے سبب انہیں مجبورا واپس ہونا پڑا۔

اس کے بعد پولیس اہل کار رائفل سے لیس ہو کر واپس آئے اور صورت حال پر قابو پایا جا سکا۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ خبریں غلط ہیں کہ تشدد کے دوران مقامی انتظامیہ کو بھی نشانہ بنایا گیا اور ان پر حملوں کی خبر افواہوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

اس پورے علاقے میں کرفیو نافذ ہے اور سکیورٹی فورسز کی اضافی کمپنیاں تعینات کی گئي ہیں۔

میوات علاقے کے گوپال گڑھ، جوریرا، پہاڑی، کاما، کیتھواڑ، سیکری، اور نگر تھانے کے علاقوں میں کرفیو نافذ ہے جہاں حالات کشیدہ بتائے جا رہے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ابھی اس سلسلے میں کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے اور کوشش یہ ہو رہی ہے کہ حالات کو معول پر لایا جائے۔

اسی بارے میں