’حقا‏ئق جاننے کے لیے کمیشن بنایا جائے‘

کشمیر قبریں، فائل فوٹو
Image caption کشمیر میں اجتماعی قبروں کا انکشاف ہوا تھا

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں انسانی حقوق کے سرکاری کمیشن نے مقامی حکومت سے کہا ہے کہ وادی کے مختلف علاقوں میں جن گمنام اور اجتماعی قبروں کی نشاندہی ہو چکی ہے، ان سے متعلق حقائق جاننے کے لئے ایک آزاد اور معتبر کمیشن قائم کیا جائے۔

کمیشن نے حکومت سے کہا ہے کہ ایسی قبروں میں دفن افراد کی شناخت کے لئے ڈی این اے جائزوں کا انتظام کیا جائے اور بے گناہ شہریوں کو فرضی جھڑ؛پوں میں قتل کرنے والوں اور ان کا ساتھ دینے والوں کو قانون کے تحت سزا دلوائی جائے۔

انسانی حقوق کے کمیشن نے یہ سفارشات جمعہ کو گمنام اور اجتماعی قبروں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جاری کیں۔

یہ سماعت سرینگر میں انسانی حقوق کے کمیشن یا ایس ایچ آر سی کے صدر دفتر پر صبح ساڑھے دس بجے شروع ہوئی اور کمیشن کے سربراہ ریٹائرڈ جسٹس سّید بشیرالدین نے مقامی انسانی حقوق گروپوں اور حکومت کے نمائندوں کے دلائل سماعت کئے۔

ایک گھنٹے کی اس کارروائی کے بعد کمیشن نے حکومت کے نام چھ نکات پر مشتمل سفارشات جاری کیں۔

کمیشن نے حکومت سے کہا ہے کہ: 'ایک آزاد، وسیع البنیاد اور منظم ادارہ قائم کیا جائے جو نہ صرف سب کی نمائندگی کرتا ہو، بلکہ مکمل طور پر بااختیار بھی ہو۔ یہ ادارہ گمنام قبروں، گمشدہ افراد، اور قبروں میں دفن نامعلوم افراد کی شناخت کے بارے میں سوالات کا جواب دے گا۔'

سفارشات میں حکومت سے کہا گیا ہے کہ فرضی جھڑپوں یا گمنام قبروں کے بعض معاملات میں متقول شہریوں کا ریکارڑ پولیس کے موجود ہے، لہذا ایسے معاملوں میں ڈی این اے جائزوں کی ضرورت نہیں ہے۔

واضح رہے کمیشن کی ایک تفتیشی رپورٹ پہلے ہی منظرِعام پر آ چکی ہے جس کے مطابق صرف شمالی کشمیر میں اڑتیس مقامات پر گمنام اور اجتماعی قبریں موجود ہیں اور ان قبروں میں دو ہزار سات سو افراد دفن ہیں جن میں سے دو ہزار ایک سو چھپن کی شناخت ہونا باقی ہے۔

کمیشن نے کنٹرول لائن کے قریبی اضلاع راجوری اور پونچھ کے بعض نئے معاملوں کا بھی نوٹس لیا اور حکومت سے کہا کہ وہ ان اضلاع میں ہوئی فرضی جھڑپوں اور وہاں موجود گمنام قبروں کے بارے میں کمیشن کو تفصیلات سے آگاہ کرے۔

راجوری اور پونچھ سے متعلق نئے انکشافات کا ذکر کولیشن آف سول سوسائٹیز نے اپنے ردعمل میں کیا تھا۔

سماعت کے دوران کولیشن آف سول سوسائیٹریز کے خرم پرویز اور ہیومن رائٹس فورم کے احسن اونتو نے کمیشن پر زور دیا کہ وہ گمنام اور اجتماعی قبروں کی تلاش کرنے کا سلسلہ وسیع کیا جائے کیونکہ بقول انکے کشمیر کے بیشتر مقامات پر ایسی قبریں موجود ہیں، جن میں عام شہریوں کو فرضی جھڑپوں میں قتل کرنے کے بعد دفن کیا گیا ہے۔

واضح رہے دو ہزار آٹھ میں یہاں سرگرم انسانی حقوق کے اداروں نے وادی کے مختلف علاقوں میں ایسی قبروں کا پتہ لگایا تھا جن میں نامعلوم افراد کو فرضی جھڑپوں کے بعد دفن کیا گیا تھا۔

ان اداروں کا کہنا ہے کہ کشمیر کے قریب آٹھ ہزار افراد حراست کے دوران لاپتہ کر دیے گئے ہیں اور ان کے لواحقین کو خدشہ ہے کہ گمنام قبروں میں ان کی ہی لاشیں ہو سکتی ہیں۔

ایس ایچ آر سی کی طرف سے اس سلسلے میں آزاد اور غیرجانبدار کمیشن قائم کرنے کی سفارش معنی خیز ہے۔

ان قبروں کا انکشاف ہوتے ہی وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے کہا تھا کہ وہ کشمیر میں ہلاکتوں کی تفتیش کے لئے جنوبی افریقہ کی طرز پر ٹروتھ اینڈ ری کنسلی ایشن کمیشن قائم کرنے پر آمادہ ہیں۔

یاد رہے انسانی حقوق کے اس مقامی کمیشن کے پاس محدود اختیارات ہیں اور یہ حکومت پر منحصر ہے کہ وہ اِن سفارشات کو مسترد یا ان پر عمل کرے۔

اسی بارے میں