مودی کا برت: دو راستے

نریندر مودی
Image caption نریندر مودی کا حدف وزیر اعظم کا عہدہ ہے

گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی اپنے متنازعہ سیاسی سفر میں ایک ایسے دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں سے ایک راستہ وزیر اعظم کی کرسی کی طرف جاتا ہے اور دوسرا جیل کی طرف۔

اپنے تین روزہ برت (کھانے سے اجتناب) سے وہ بظاہر دلی کا سفر شروع کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ سفر دوسرا راستہ بند ہونےسے پہلے شروع کیا جاسکتا ہے؟

سماجی ہم آہنگی کے لیے برت کا اعلان کرتے وقت ان کے بظاہر دو مقصد تھے: خود کو وزیر اعظم کے عہدے کے لیے ایک مضبوط دعویدار کے طور پر پیش کرنا اور سماجی ہم آہنگی کا نعرہ دیکر فرقہ پرستی کی اس پرچھائی سے باہر نکلنا جو سن دو ہزار دو کے فسادات کے بعد سے ان کی پہچان سی بنی گئی ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی میں اس وقت قیادت کا بحران ہے، کانگریس کی قیادت والی وفاقی حکومت ایک کے بعد ایک نئی مشکلات میں گھری ہوئی ہے اور کافی عرصے بعد بی جے پی کو ایسا لگنا شروع ہوا ہے کہ وہ مرکز میں دوبارہ اقتدار حاصل کرسکتی ہے۔

اسی لیے پارٹی میں قیادت کی جنگ چل رہی ہے۔ بزرگ رہنما لال کرشن اڈوانی، سشما سواراج اور ارون جیٹلی، سب کی نگاہیں وزیر اعظم کی کرسی پر ٹکی ہوئی ہیں لیکن پارٹی کی نسبتاً کم عمر قیادت میں نریندر مودی کا سیاسی وزن شاید سب سے زیادہ ہے۔

نریندر مودی ایک اچھے منتظم ہیں، یہ زیادہ تر لوک مانتے ہیں، لیکن بہت سے لوگ یہ بھی مانتے ہیں کہ اقتدار پر قابض رہنے کے لیے وہ کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔ گجرات کے فسادات کی مثال اسی پس منظر میں پیش کی جاتی ہے۔ ان فسادات میں ان کا کیا رول تھا اس کی تفتیس ابھی جاری ہے لیکن عام طور پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ گودھرا کے واقعہ کے بعد مسلمانوں کو سبق سکھانے کے لیے انہوں نے دانستہ طور پر فسادات کو کنٹرول کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔

مبصرین کے مطابق خود مودی کو اس بات کا احساس ہے کہ ’گجرات ماڈل' کی سیاست کے سہارے وہ قومی سیاست میں آگے نہیں بڑھ سکتے، ان کے سامنے لال کرشن اڈوانی کی مثال موجود ہے جنہوں نے بابری مسجد رام جنم بھومی کی تحریک سے اس ملک کے سیاسی منظرنامے کوبدل دیا تھا لیکن کبھی وزیر اعظم نہیں بن پائے۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ مسٹر اڈوانی ایک ایسے کٹر رہنما کے طور پر سامنے آئے تھے جن کی قیادت دوسری اتحادی جماعتوں کو منظور نہیں تھی۔

تجزیہ نگاروں کے خیال میں اسی لیے نریندر مودی اچانک سماجی ہم آہنگی کی بات کر رہے ہیں۔ وہ بار بار ریاست کی تیز رفتار اقتصادی ترقی کا ذکر کر رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ فسادات کی آڑ میں گجرات کو بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے اور یہ کہ ان کے دور اقتدار میں ہندو ہو یا مسلمان سب نے برابر ترقی کی ہے۔

لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر سن دو ہزار دو میں کوئی جرم ہوا تھا، اور اگر نریندر مودی کا اس میں کوئی ہاتھ تھا، تو کیا اقتصادی ترقی کی وجہ سے ان کی جوابدہی ختم ہوسکتی ہے؟

گجرات کے فسادات سے متعلق بہت سے کیس عدالتوں میں ہیں۔ ان میں سے کم سے کم ایک (احاسن جعفری/گلبرک سوسائٹی قتل عام جس میں ساٹھ سے زیادہ لوگوں کو زندہ جلا دیا گیا تھا) میں عدالت کو ابھی یہ فیصلہ کرنا باقی ہے کہ آیا نریندر مودی کوملزم بناکر ان پر مقدمہ چلایا جانا چاہیے یا نہیں۔

نریندر مودی کو اور بھی کئی سنیگن الزامات کا سامنا ہے۔

ان کے ایک سابق وزیر داخلہ امت شاہ اور ریاست کے کئی اعلی ترین پولیس افسران پر سہراب الدین فرضی مڈبھیڑ کیس میں مقدمہ چل رہا ہے۔ اس کے علاوہ ایک دیگر وزیر داخلہ ہرین پانڈیا کے قتل کے سلسلے میں بھی نریندر مودی پر انگلیاں اٹھائی گئی ہیں، خود ہرین پانڈیا کی بیوہ اور والد کی طرف سے۔

نریندر مودی کو شاید یہ امید تھی کہ تین دن بھوکے رہ کر ان الزامات سے ان کا پیچھا جھوٹ جائے گا لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا۔ ٹی وی چینلوں پر مسلسل بحث مباحثے جاری ہیں اور ایسی کم ہی آوازیں سنائی دے رہی ہیں جو ماضی کو نظر انداز کرکے مستقبل کی طرف دیکھنے کی وکالت کر رہی ہوں۔

ان کے برت کو ’فائو سٹار فاسٹ' ، ڈھونگ اور سرکاری پیسےکی بربادی بتایا جارہا ہے لیکن شاید یہ باتیں زیادہ اہم نہیں ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ قانون کی حکمرانی ہونی چاہیے، نریندر مودی کو بھی انصاف ملنا چاہیے اور ان ہزاروں بیواؤں، ماؤں اور بہنوں کو بھی جن کی زندگیاں گجرات کے فسادات کے بعد سے ادھوری ہیں۔

اگر ان فسادات میں نریندر مودی کا کوئی رول نہیں تھا تو وزیر اعظم کے دفتر کی طرف جانے والے راستے پر ان کے آگے بڑھنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے، اور اگر تھا تو دوسرا راستہ بھی کھلا رہنا چاہیے۔

انصاف کا یہ ہی تقاضہ ہے۔

اسی بارے میں