بھارت، نیپال میں زلزلہ سے چھپن ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وقت کے ساتھ ساتھ متاثرین کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے

بھارت اور نیپال میں آنے والے طاقتور زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد چھپّن ہوگئی ہے جبکہ ڈھائی سو سے زیادہ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

اتوار کی شام آنے والے اس زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر چھ اعشاریہ نو بتائی گئی ہے۔

بھارت میں وزارت داخلہ کے سکریٹری آر کے سنگھ نے بتایا ہے کہ سب سے زیادہ ہلاکتیں شمال مشرقی ریاست سکّم میں ہوئی ہیں جہاں پینتیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ا

بھارت میں زلزلہ: تصاویر

اب تک کہ اطلاعات کے مطابق پانچ افراد ریاست مغربی بنگال میں جبکہ دو بہار میں ہلاک ہوچکے ہیں۔ نیپال اور تبّت میں سات سات لوگ زلزلہ کی ذد میں آکر ہلاک ہوئے ہیں۔

متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں لیکن حکام کا کہنا ہے کہ بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے امدادی کارکنوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption زلزلے کا مرکز بھارت کی شمالی ریاست سکم سے چونسٹھ کلومیٹر دور بتایا جارہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق دریائے تیستا پر پل بنانے کے لیے کام کرنے والے کئی سارے سرکاری بھی اس میں ہلاک ہوگئے ہیں لیکن سرکاری سطح پر ابھی اس کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

حکومت نے امدادی کاموں کے لیے متاثرہ علاقوں میں فوج کو تعینات کیا ہے جو فضائیہ کی مدد سے کام کر رہی ہے لیکن خراب موسم کے سبب امدادی کاموں میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فضائی ایمبولنس وقت پر نا پہنچنے کے سبب ہلاکتوں میں اضافہ کا خدشہ ہے۔ بعض ماہرین نے انتظامیہ کی لاپرواہی پر نکتہ چینی بھی کی ہے۔

زلزلہ بھارت کے مقامی وقت کے مطابق شام تقریباً چھ بجے محسوس کیا گیا اور اس کا مرکز شمالی مشرقی بھارتی ریاست سکم کے دارالحکومت گینگ ٹاک سے تقریباً چونسٹھ کلومیٹر دور تھا۔ سکم میں یہ گزشتہ دو دہائیوں کا سب سے طاقتور زلزلہ تھا۔

زلزلہ اتنا شدید تھا کہ اس کے جھٹکے سکم کے علاوہ آسام ، میگھالیہ ، تریپورا ، مغربی بنگال کے کئی علاقوں ، بہار ، جھارکھنڈ ، اتر پردیش ، راجستھان ، چندی گڑھ اور دارالحکومت نئی دلی کے علاوہ بھارت کے پڑوسی ممالک نیپال اور بنگلہ دیش میں بھی محسوس کیےگئے۔

زلزلے سے سکم میں ٹیلیفون لائنیں کٹ گئیں جبکہ ریاستی دارالحکومت میں بجلی کی فراہمی بھی منقطع ہوگئی۔ سکم کے پولیس سربراہ جسبیر سنگھ کا کہنا ہے کہ شہر میں عمارتیں منہدم ہوئی ہیں اور ان کے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے امدادی سرگرمیاں شروع کر دی گئی ہیں۔

انہوں نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا ’ہم نے ہائی الرٹ کا اعلان کردیا ہے۔ پولیس دارالحکومت گینگ ٹاک کی سڑکوں پر ہے جبکہ دیگر شہروں میں بھی پولیس کو الرٹ کردیا گیا ہے‘۔

وزیر اعظم من موہن سنگھ نے سکم کے وزیر اعلٰی سے ٹیلی فون پر بات کرکے انہیں تمام ضروری امداد فراہم کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق زلزلہ کی اطلاع ملنے کے بعد انہوں نے قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے تشکیل دی جانے والی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کیا۔

دلی سے ماہرین کی ٹیموں کو لے کر دو خصوصی طیارے باگ ڈوگرا کے لیے روانہ ہوگئے ہیں جہاں سے آگے کا راستہ ماہرین سڑک کے ذریعے طے کریں گے۔ ٹی وی چینلز کے مطابق سکم اور نیپال کی سرحد پر واقع علاقوں میں کافی تباہی ہوئی ہے لیکن اس کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

اسی بارے میں