گجرات میں کوئی تفریق نہیں برتی جاتی: مودی

Image caption میری حکومت میں کسی کے ساتھ کوئی تفریق نہیں برتی جاتی: مودی

بھارت کی ریاست گجرات کے وزیر اعلٰی نریندر مودی نے کہا ہے کہ بھارت ترقی کرنے کے لیے گجرات ماڈل کو اختیار کرنا ہو گا ۔

انہوں نے اپنے تین روزہ برت کے اختتام پر کہا کہ ملک میں گزشتہ ساٹھ برس سے صرف ووٹ بینک کی سیاست ہوتی رہی ہے اور ترقی کے لیے نئی سوچ کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت میں کسی کے ساتھ کوئی تفریق نہیں برتی جاتی۔

احمدآباد میں سب ہی رہنماؤں کی موجودگی میں اپنا برت توڑتے ہوئے نریندرمودی نے اپنی طویل تقریر کا خاصہ حصہ ملک کی قومی سیاست پر مرکوز رکھا ۔

انہوں نے کہا کہ ملک کو بڑے خواب دیکھنے کی ضرورت ہے ’بھارت پر یہ الزام لگتا رہا ہے کہ یہ بڑے خواب نہیں دیکھتا۔ چھوٹے موٹے کام ہو جاتے ہیں کچھ سڑکیں بن جاتی ہیں ۔ کچھ ہاسپٹل بن جاتے ہیں لیکن یہ کوئی نہیں سوچتا کہ پورے صحت کے شعبے کو کیسے بدلا جائے، تعلیم کے نظام کو کیسے تبدیل کیا جائے۔ ملک میں نئی سوچ کی ضرورت ہے۔‘

انہوں نے اپنے ہزاروں حامیوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اب تک صرف ووٹ بینک کی سیاست ہوتی رہی ہے جس سے ترقی کا کبھی ماحول ہی نہیں بن پایا۔ ’تمام جماعتیں صرف انتخاب جیتنے کے لیے ووٹ بینک کی سیاست کرتی رہی ہیں اسی لیے ملک میں ترقی نہیں ہو سکی۔ گزشتہ ساٹھ برس ضائع ہوئے ہیں۔‘

انہوں نےاپنے ناقدین پر وار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اس سدبھاؤنا یعنی ہم آہنگی مشن میں تمام مذاہب کے لوگ شریک ہوئے ہیں ۔ ’میں نے دس برس تک سب کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی ہے۔ میں نے دس برس تک محنت کی ہے اور تب جا کر سب کا اعتماد جیتا ہے ۔‘

انہوں نے اقلیتوں کے حالات پر رپورٹ تیار کرنے والے سچر کمیشن کے جسٹس راجندر سچر سے اپنی بات چیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب انہوں نے ریاست میں اقلیتوں کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں پوچھا تو ان کا جواب تھا ’میں نہ اقلیت کے لیے کچھ کرتا ہوں نہ اکثریت کے لیے میں سب ہی گجراتیوں کے کام کرتا ہوں۔ مجھے یہ تقسیم منظور نہیں۔‘

نریندر مودی کی یہ تقریر بہت طویل تھی اور دلی میں ہمارے نامہ نگار شکیل اختر کا کہنا ہے کہ اسے واضح طور پر ایک انتخابی تقریر کہا جا سکتا تھا۔ اس میں ان کی ساری توجہ اپنی اہلیت اور حکومت کی کارکردگی کو اجاگر کرنے پر مرکوز تھی۔

گجرات میں آئندہ برس انتخاب ہونے والے ہیں اور کانگریس کی تیزی سے گھٹتی ہوئی مقبولیت سے بہت ممکن ہے کہ نریندر مودی یہ انتخابات وقت سے پہلے کرانے پر غور کریں۔

لیکن جس طرح انہوں نے اپنی تقریر میں ملک کی قومی سیاست پر بات کی اور یہ بتانے کی کوشش کی کہ ان کے پاس ترقی کے لیے تجربہ اور مستقبل کی سیاسی بصیرت ہے اس سے یہ واضح ہے کہ آنے والے دنوں میں ان کی نظر وزارت عظمٰی پر مرکوز ہو گی۔

اسی بارے میں