بھارت رکنیت کے لیے فلسطین کا حامی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فلسطین سے بھارت کے تعلق تاریخی ہیں:منموہن سنگھ

بھارتی وزیرِاعظم منموہن سنگھ نے اقوام متحدہ کی رکنیت کے لیے فلسطین کے دعوے کی بھر پور حمایت کا اعلان کیا ہے۔

واشنگٹن سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم نے صدر محمود عباس کو ایک خط تحریر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’بھارت نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے جائز مقاصد کی حمایت کی ہے۔۔۔میں آپکو اقوام متحدہ میں بھارت کی مکمل حمایت کا یقین دلاتا ہوں‘۔

اقوام متحدہ میں بھارت کےمستقل نمائندے ہردیپ سنگھ نے صحافیوں کو یہ خط پڑھ کر سنایا۔

اس سے پہلے فلسطینی صدر نے اگست میں منموہن سنگھ کو خط لکھ کر بتایا تھا کہ وہ فلسطین کے لیے اقوامِ متحدہ کی مکمل رکنیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اپنے خط میں وزیر اعظم نے کہا کہ’ فلسطین سے بھارت کے تعلق تاریخی ہیں اور بھارت نے ہمیشہ ایک خودمختار، آزاد اور مستحکم فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی ہے جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو اور جو واضح طور پر تعین شدہ سرحدوں کے اندر اسرائیل کے ساتھ امن کے ساتھ رہ سکے‘۔

وزیراعظم منموہن آج کل سنگھ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے واشنگٹن میں ہیں۔

فلسطینی صدر فلسطین کی رکنیت کے لیے وہ جمعہ کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کو باقاعدہ درخواست پیش کریں گے۔

محمود عباس کو اپنا ارادہ ترک کرنے پر مائل کرنے کے لیے سفارتی سرگرمیاں پوری شدت سے جاری ہیں اور اسرائیل اور امریکہ نے فلسطینیوں سے امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔

اسرائیل نے فلسطین کی جانب سے اس کوشش کی سخت مخالفت کی ہے جبکہ امریکہ نے واضح کیا ہے کہ وہ رکنیت کی درخواست کو مسترد کرنے کے لیے اپنے ویٹو کے اختیار کا استعمال کرے گا۔

اسی بارے میں