ہلاکتوں میں اضافہ، امدادی آپریشن جاری

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption متاثرہ علاقوں میں بجلی اور پانی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے

بھارت میں گزشتہ اتوار کو آنے والے شدید زلزلے میں ہلاک ہونے افراد کی تعداد اب سو کے قریب ہوگئی ہے۔

بدھ کے روز دریائے تیستا کے قریب سے بیس لاشیں اور بر آمد ہوئی ہیں اور اس طرح صرف شمال مشرقی ریاست سکّم میں مرنے والوں کی تعداد ساٹھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

بھارت میں زلزلہ: تصاویر

اس کے علاوہ ریاست بہار زلزلہ سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بارہ ہے جبکہ مغربی بنگال میں اس سے پندرہ افراد مارے گئے ہیں۔ تبت اور نیپال میں بھی سات سات افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔

فوج اور مقامی پولیس پر مشتمل امدادای کارکن بدھ کو شمالی سکّم کے مانگن، لاچنگ، لیچن اور سگاتھن کے ان علاقوں میں پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں جو زلزلہ سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

سکّم کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس جسبیر سنگھ نے خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کو بتایا ہے کہ ان علاقوں میں’ملبے کے نیچے دبے ہوئے بہت سے افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption چٹانیں کھسکنے سے امدادی کاموں میں مشکلات کا سامنہ ہے

ادھر حکام کا کہنا ہے کہ بارش کے سبب مزید چٹانیں کھسکنے کے واقعات ہوئے ہیں جس کی وجہ سے امداد اور بچاؤ کا کام متاثر ہو رہا ہے۔ تاہم امدادی دستے اس قدرتی آفت کے دو دن بعد سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔

اس زلزلے میں ڈھائی سو سے زیادہ افراد زخمی ہیں اور بہت سے اب بھی لا پتہ ہیں جن کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔ اس زلزلے نے جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر چھ اعشاریہ نو بتائی گئی ہے، بھارت سے لے کر بھوٹان تک کوہِ ہمالیہ کے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

چونکہ امدادی ٹیمیں شمالی سکم کے شدید متاثرہ علاقوں تک ابھی پہنچی ہی ہیں، جہاں زیادہ تباہی آئی ہے، اس لیے اس تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

زلزلے سے سب سے زیادہ جانی نقصان سکم میں ہی ہوا ہے اور بھارتی حکام کے مطابق وہاں اب تک ساٹھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق سکم میں تقریباً ایک لاکھ سے زیادہ عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے لیکن نقصان کا صحیح اندازہ ہونے میں ابھی کئی دن لگ سکتے ہیں۔

متاثرہ علاقوں میں لوگ ’آفٹر شاکس‘ کے خطرے کے پیشِ نظر راتیں کھلے آسمان تلے بسر کر رہے ہیں۔ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے متاثرہ علاقوں میں بجلی اور پانی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اب امدادی دستے منگن پہنچنا شروع ہوگئے ہیں جہاں زلزلہ کا مرکز تھا اور وہاں سے وسیع پیمانے پر تباہی کی اطلاعات ہیں۔

بھارتی حکومت نے سکم کے متاثرہ دیہات تک رسائی کے لیے راستوں پر گرنے والے مٹی کے تودے اور گرنے والی عمارتوں کا ملبہ ہٹانے کی خاطر چھ ہزار فوجی جوان علاقے میں بھیج دیے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی قدرتی آفات سے نمٹنے کی ٹیم کے ایک رکن نے دلّی میں خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ مرنے اور زخمی ہونے والوں کی تعداد بڑھ جائے گی‘۔

سکم کی حکومت نے زلزلہ میں مرنے والوں کے لواحقین کو پانچ لاکھ روپے بطور زرِ تلافی دینے کا اعلان کیا ہے جبکہ بھارتی وزیراعظم نے بھی زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کے لیے دو لاکھ روپے جبکہ شدید زخمیوں کے لیے ایک لاکھ روپے زرِ تلافی کا اعلان کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وقت کے ساتھ ساتھ متاثرین کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے

حکام کے مطابق گہرے بادلوں اور بارش کی وجہ سے بھی امدادی کارکنوں کو متاثرہ علاقوں تک پہنچانے میں دشواری آ رہی ہے۔

زلزلے سے سڑکوں کی تباہی کی وجہ سے امدادی کارکنوں کو علاقے میں پہنچانے کا واحد ذریعہ ہیلی کاپٹر ہیں لیکن خراب موسم کی وجہ سے بھارتی فوج کے ہیلی کاپٹر پرواز نہیں کر پا رہے ہیں۔

بھارتی فوج کے جی او سی 17 ماؤنٹین ڈویژن کے میجر جنرل ایسل نرسمہن نے صحافیوں کو بتایا کہ فوج نے گےگٹوك اور دیگر متاثرہ علاقوں میں ’آپریشن مدد‘ شروع کر دیا ہے جس میں دو ہزار فوجی شریک ہیں۔

خطے میں امدادی ٹیموں کے ساتھ سفر کرنے والے صحافیوں کا کہنا ہے کہ گینگ ٹاک سے چنگ تھانگ کو جوڑنے والی سوکلومیٹر لمبی سڑک پر ہر طرف مکمل تباہی کے مناظر ہیں۔ یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ جیسے جیسے امدادی ٹیمیں دور دراز علاقوں تک رسائی حاصل کریں گی، مرنے والوں کی تعداد تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔

شمالی سکم میں بہت سے پلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور سیاحوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ گینگ ٹاک سے باہر نہ جائیں۔

اطلاعات کے مطابق جگہ جگہ پیڑ گرنے اور چٹانیں کھسکنے کی وجہ سے تنگ پہاڑی راستے بند ہوگئے ہیں جنہیں کھولنے کے لیے بھاری مشینوں کی ضرورت ہوگی۔ سکم کے وزیر اطلاعات سی بی کارکی کے مطابق سب سے بڑا فوری چیلنج امدادی ٹیموں کو متاثرہ علاقوں تک پہنچانا ہے۔

اسی بارے میں